Urdu book · حکمتِ اسلام

پندرہ منٹ میں

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

پندرہ منٹ میں ٹائمز آف انڈیا ( ۲ اپریل ۱۹۹۰ ) میں اوپینین Opinion کے کالم میں مسٹر رتن کیسوانی کی تحریر چھپی ہے ۔ وہ اوبرائے ہوٹل ( نئی دہلی ) میں رومز ڈویژن منیجر ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک خاتون سیاح ان کے ہوٹل میں اتریں ۔ جب ٹیکسی انھیں اتار کر چلی گئی تو انھیں یاد آیا کہ ان کا ایک بیگ ٹیکسی میں چھوٹ گیا ہے ۔ اس بیگ میں ان کا پاسپورٹ ، رقم ، کیمرا اور زیورات موجود تھے ۔ احتیاطاً انھوں نے ٹیکسی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔ انھوں نے ہوٹل والوں کو بتایا ۔ ہوٹل والوں نے فوراً ٹرافک پولیس کے کنٹرول روم کو ٹیلی فون کیا اور ان کو ٹیکسی کا نمبر بتایا۔ کنٹرول روم نے اسی وقت وائرلیس کے ذریعہ پوری دہلی میں سڑکوں پر کھڑی ہوئی پولیس کو اس واقعہ کی خبر دیدی ۔ پورے شہر میں ہزاروں نگاہیں گزرتی ہوئی ٹیکسیوں کا معائنہ کرنے لگیں ۔ ابتدائی اطلاع کے صرف پندرہ منٹ کے اندر پولیس والوں نے ہوٹل کو بتایا کہ انھوں نے ٹیکسی کو پکڑ لیا ہے اور اس سے مذکورہ بیگ حاصل کر لیا ہے : 'Within 15 minutes they telephoned to say they had located the taxi and taken the bag. میں نے اس واقعہ کو پڑھا تو مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے جن اور انسان کی جماعت ، اگر تم سے ہو سکے تو تم آسمانوں اور زمین کی حدوں سے نکل جاؤ ۔ تم نہیں نکل سکتے بغیر ( خدا کی ) سلطان کے ۔ پھر تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ۔ تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا تو تم اپنا بچاؤ نہ کرو سکوگے ۔ ( الرحمٰن ۳۳۔۳۵) مخلوق ایسا کر سکتی ہے کہ وہ ترقی یافتہ مواصلات کے ذریعہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کرے اور پولیس منٹوؤں کے اندر بھاگنے والے کا پتہ کر کے اس کو پکڑلے ۔ جب مخلوق کے اندر یہ طاقت ہے تو خالق کے اندر یہی طاقت مزید بے حساب گنا اضافہ کے ساتھ کمال درجہ میں موجود ہوگی ۔ آدمی اگر اس پہلو کو سوچے تو اس کی زندگی میں اچانک انقلاب آجائے ۔ میں کسی حال میں خدا کی پکڑ سے باہر نہیں ، یہی احساس تمام اصلاحات کی جان ہے ۔ اس کے بغیر کوئی حقیقی اصلاح ممکن نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page