Urdu book · حکمتِ اسلام

دو بول

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

دو بول آپ امام بخاری کی ”صحیح “ کو پڑھنا شروع کریں تو جب آپ اس کے خاتمہ پر پہنچیں گے تو آخر میں آپ کو یہ حدیث لکھی ہوئی ملے گی : عن ابی ھریرۃ، قال قال النبی صلی اللہ علیہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ۔ کلمتَانِ حبیبتَانِ إلی الرحمٰنِ وسلم نے فرمایا ۔ دو بول خدائے مہربان کو محبوب خَفِيفَتَانِ عَلَى اللّسَانِ ثَقِيلَتَانِ في الميزانِ ہیں۔ وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر قیامت کی میزان سبحانَ اللهِ وبحمدِهِ سبحانَ اللهِ پر بھاری ہیں ۔ وہ بول ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ العظيم - سبحان اللہ العظیم - اس میں شک نہیں کہ یہ دونوں بول زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ وزنی ہیں ۔ وہ قیامت میں اعمال کے ترازو کو جھکا دینے والے ہیں ۔ مگر ان بولوں کی یہ اہمیت ان کے تلفظ میں نہیں ہے بلکہ ان کی حقیقت میں ہے ۔ وہ اس لیے ہے کہ وہ جس معنویت کا اظہار ہیں وہ معنویت اپنی اہمیت میں تمام چیزوں سے بڑھی ہوئی ہے ۔ یہ دونوں بول در اصل معرفتِ خداوندی کے بول ہیں ۔ ایک شخص کو ایمان کی معرفت حاصل ہوئی ۔ اس نے اللہ کی پاک ہستی کا ادراک کیا۔ اس نے دیکھا کہ کائنات اپنے ان گنت کرشموں کے ساتھ اس کی حمد میں نغمہ سنج ہے ۔ اس نے اپنے اندر اور اپنے باہر خدا کی عظمت و جلال کی نشانیاں دیکھیں ۔ اس معرفت نے اس کے سینہ میں حمد الہی اور اعترافِ خداوندی کا طوفان برپا کر دیا ۔ وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ خدا یا تو پاک ہے ۔ ساری حمد تیرے لیے ہے ۔ تو سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس کی زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گیے کہ سُبحانَ اللہِ وبحمدِهِ سُبحانَ اللهِ العَظِيم ۔ اس طرح کا ایک بول محض ایک انسانی بول نہیں ۔ وہ خدا کی بے پایاں عظمتوں کا انسان کی زبان سے اظہار ہے ۔ وہ تمام موزوں چیزوں سے زیادہ باوزن ہے ۔ وہ بلاشبہ اسی قابل ہے کہ جس پلڑے میں رکھا جائے اس پلڑے کو جھکا دے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page