غلطی میری نہیں
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی میری نہیں ایڈولف ہٹلر (۱۸۸۹ء - ۱۹۴۵ء) کی موت کے بعد سے اب تک اس کے بارہ میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کی تعداد صرف انگریزی زبان میں تقریباً ۵۵ ہزار ہے۔ اس میں تازہ اضافہ برلن کا بنکر (The Berlin Bunker) ہے جو لندن سے چھپی ہے۔ ہٹلر کے آخری ۱۰۵ دن بنکر (فوجی تہ خانہ) میں گزرے تھے۔ مصنف نے اس زمانہ کے ہٹلر کے ساتھیوں سے معلومات حاصل کر کے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۴۵ء کو جب ایک ہزار امریکی بمباروں نے برلن کو تہس نہس کر دیا تو ہٹلر اپنے عملہ کے ساتھ خاموشی سے بنکر کے اندر چلا گیا۔ اس زمانہ میں اس کا اتنا برا حال تھا کہ ۵۵ سال کا ہو کر وہ ۷۰ سال کا دکھائی دینے لگا۔ اس کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ روس کی بڑھتی ہوئی فوجیں پہنچ کر اس کو پکڑ لیں گی۔ ان حالات میں ایک ایک شخص اس کا ساتھ چھوڑتا گیا۔ یہاں تک آخر میں صرف اس کا کتا اس کے ساتھ رہ گیا۔ ہٹلر کی حکومت چونکہ شروع سے آخر تک تشدد پر قائم تھی اس لیے ہٹلر کو ہر وقت اپنی موت کا شبہ لگا رہتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۹۳۹ء - ۴۵ کے درمیان ہٹلر کے اوپر ۲۵ بار قاتلانہ حملے ہوئے، مگر ہر بار وہ بچ جاتا تھا۔ اس کی وجہ اس کا زبردست حفاظتی عملہ نہ تھا۔ بلکہ ہٹلر کا یہ مزاج تھا کہ وہ اکثر بالکل آخر وقت میں اپنا پروگرام بدل دیتا تھا۔ پروفیسر ہاف من کا کہنا ہے کہ ہٹلر بعض اوقات اپنا پروگرام طے کرنے کے لیے سکہ اچھالتا اور اس کو دیکھ کر فیصلہ کرتا۔ تاہم اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ آخری وقت تک ہٹلر نے یہ نہ کہا کہ "میں نے غلطی کی" وہ ہمیشہ اپنے جنرلوں اور یہودیوں اور کمیونسٹوں کو ساری باتوں کا الزام دیتا رہا۔ حتیٰ کہ اپنے عوام کو بھی۔ مایوسی جب اپنی آخری حد پر پہنچ گئی تو ہٹلر نے سائنائڈ کیپسول کھا کر خودکشی کرلی (۶ جنوری ۱۹۸۰ء) دنیا میں کوئی آدمی اپنی غلطی کو نہیں مانتا، حتیٰ کہ ہٹلر جیسا آدمی بھی نہیں جس کو تمام دنیا غلط قرار دے چکی ہو۔ آدمی کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنی غلطی ماننے پر مجبور ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر وہ اپنی زبان سے نہ کہے کہ میں غلطی پر تھا تو خود اس کے اپنے اعضا اس کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اس پر تدار نہ ہوگا کہ ان کو روک سکے (۲۱/۴۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader