Urdu book · حکمتِ اسلام

پہلے آپ

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلے آپ ڈاکٹر سوجات مو کو انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر تھے۔ وہ جکارتا یونیورسٹی میں ایک علمی موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔ عین لیکچر کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ اسٹیج ہی پر گر پڑے اور اسی وقت وفات پاگئیے۔ وہ پہلے ایشیائی تھے جو اقوام متحدہ کی امن یونیورسٹی (ٹوکیو) کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں: ڈاکٹر سوجات مو کو کا کیس موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کیس ہے ۔ پریس اور میڈیا اور پلیٹ فارم کے ظہور نے ہر آدمی کو بولنے کے لامناہی مواقع دیدیئے ہیں ۔ ہر آدمی صبح و شام بولنے میں مصروف ہے۔ آج ہر آدمی دوسروں کو سنارہا ہے۔ حالاں کہ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہر آدمی کی طرف آرہے ہیں تاکہ اس کو لے جاکر وہاں کھڑا کردیں جہاں اس کو صرف سننا ہے ، سننے کا موقع آخری طور پر اس کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ علم لفظوں سے واقفیت کا نام نہیں ہے بلکہ معانی سے واقفیت کا نام ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا کام بولنا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا کام چپ رہنا ہے۔ یہاں اصل اہمیت اظہار رائے کی نہیں ہے بلکہ اظہار رائے سے پہلے سوچنے کی ہے۔ بولنے والا حقیقتاً وہ ہے جو اپنے آپ سے بولے ۔ بتانے والا وہ ہے جو اپنے دماغ کو سوچنے میں لگائے ہوئے ہو۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والا وہ ہے جو دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرے ، جو دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اپنا مخاطب خود بن جائے ۔ جو دوسروں پر بلڈوزر چلانے کا نعرہ لگانے سے پہلے خود اپنی ذات پر بلڈوزر چلا چکا ہو۔ دوسروں کو مخاطب کرنا سب سے آسان کام ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کرنا سب سے مشکل ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page