Urdu book · حکمتِ اسلام

زلزلے کا سبق

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

زلزلہ کا سبق قدرتی آفتوں میں سب سے بڑی آفت زلزلہ ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان زلزلوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ زلزلہ میں جو انسانی موتیں واقع ہوتی ہیں، ان کا سب سے بڑا سبب مکانوں کا گرنا ہے۔ جب زلزلہ کا جھٹکا آتا ہے تو مکانات اچانک گر پڑتے ہیں اور چھوٹے بڑے سب اس کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں۔ انسان نے اپنے تجربات میں یہ معلوم کیا کہ جو مکان جتنا زیادہ مضبوط ہو، اتنی ہی آسانی سے وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے اور بھیانک حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زلزلہ سے پیدا ہونے والے نقصانات سے بچنے کی تدبیر مکانات کی "مضبوطی" نہیں بلکہ اس کی "کمزوری" ہے۔ مضبوط مکان بے لچک ہوتا ہے، وہ زلزلہ کے مقابلہ میں مستحکم طور پر کھڑا رہنا چاہتا ہے ۔ چونکہ شدید زلزلہ کا جھٹکا ہر مضبوط مکان سے بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے مکان کی مضبوطی اس کے لیے الٹی پڑتی ہے ۔ وہ پورا کا پورا دھڑام سے گر جاتا ہے ۔ اس کے برعکس مکان اگر زیادہ مضبوط نہ ہو بلکہ لچک دار ہو تو اس کے اندر زلزلہ کے جھٹکے کو سہارہ نے کی طاقت آ جاتی ہے ۔ زلزلہ جب جھٹکا دیتا ہے تو وہ خود بھی ہلنے لگتا ہے۔ اس طرح مکان کا ہلنا اس کو گرنے سے بچا لیتا ہے ۔ زلزلہ اگر زمین کو تلپٹ نہ کرے، بلکہ صرف ہلائے، تو ایسے مکانات اکثر محفوظ رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان مکانات کے باشندے بھی ۔ اس تجربہ کی روشنی میں، ارتھ کوئیک انجینئر نگ وجود میں آئی ہے ۔ اس انجینئرنگ کے مطابق ، زلزلہ کے علاقوں میں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جن کا ڈھانچہ فلوٹنگ فاؤنڈیشن Floating Foundation کے اصول پر بنایا جاتا ہے ۔ چنانچہ جب زلزلہ کا جھٹکا آتا ہے تو ایسا مکان ہل کر رہ جاتا ہے، وہ منہدم نہیں ہوتا ۔ ۱۹۸۹ میں سان فرانسکو میں شدید زلزلہ آیا۔ مگر وہاں صرف ۷۵ موتیں ہوئیں ۔ جب کہ جون ۱۹۹۰ میں اسی قسم کا زلزلہ شمالی ایران میں آیا تو ۴۰ ہزار آدمی مر گئے ۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ سان فرانسکو میں لچک دار مکانات بنے ہوئے تھے اور ایران میں اینٹ اور سمینٹ کے مضبوط مکانات ۔ یہ قدرت کا ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ موجودہ حادثات کی دنیا میں بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں اکرٹ کے ساتھ نہ رہے بلکہ تواضع کے ساتھ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page