دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
دار الاسلام، دار الكفر، دار الحرب اسلام میں، قرآن و حدیث کے بعد، فقہ کو شریعت کا تیسرا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ تا ہم فقہ ایک استنباطی یا اجتہادی علم ہے نہ کہ مبنی بروحی علم ۔ فقہ کی تدوین رسول اور اصحاب رسول کے بعد عباسی خلافت کے زمانہ میں ہوئی۔ اس دور کے فقہاء نے قرآن و حدیث سے استنباط کر کے جو نئی اصطلاحیں وضع کیں ان میں سے تین اصطلاحیں یہ تھیں دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب۔ فقہاء نے اپنے مخصوص مزاج کے مطابق، دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی ذیلی تقسیمات بھی کی ہیں اور اس طرح ہر ایک دار کو کئی دار کی صورت میں بیان کیا ہے۔ مگر یہ ذیلی تقسیمات ہمارے نزدیک اضافی ہیں۔ ہم نے ذیلی تقسیمات سے قطع نظر کرتے ہوئے اس مقالہ میں صرف بنیادی تقسیم کو سامنے رکھا ہے اور اس سہ گانہ تقسیم کے اعتبار سے ہر ایک کے شرعی احکام بیان کئے ہیں۔ عباسی دور کے جن فقہاء نے یہ اصطلاحیں بنائیں ان میں سے ہر فقیہہ کو بعد کے علماء نے مجتہد مطلق کا درجہ دے دیا تھا۔ اس لئے پچھلے ہزار سال میں کسی نے ان اصطلاحات کی صحت پر سوال نہیں اٹھایا۔ لیکن اگر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فقہاء کی یہ اصطلاحات یقینی طور پر روح اسلام کے مطابق نہ تھیں۔ فقہاء کی بنائی ہوئی یہ اصطلاحیں قرآن و سنت میں موجود نہ تھیں۔ فقہاء نے اپنے حق اجتہاد کو استعمال کرتے ہوئے بطور خود ان اصطلاحوں کو وضع کیا۔ مگر یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اجتہاد کی کچھ شرطیں ہیں ۔ جائز اجتہاد وہی ہے جس میں یہ شرطیں پوری طرح پائی جاتی ہوں۔ جس اجتہاد میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں وہ یقینی طور پر غلط اجتہاد قرار پائے گا۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ: المجتهد يخطی ويصیب ( مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی)۔ اجتہاد شریعت کا ایک اصول ہے ۔ علماء نے عام طور پر مانا ہے کہ اجتہاد کے اصول کا شرعی ماخذ وہ حدیث ہے جو صحابی رسول معاذ بن جبل کے حوالہ سے نقل ہوئی ہے۔ وہ حدیث یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader