Urdu book · حکمتِ اسلام

نماز میں خشوع

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

میں وہ وقت آیا جب کہ ان کو اللہ کے خوف سے جھک جانا چاہئے تھا مگر اس دقت انھوں نے سرکشی دکھائی۔ دنیا میں انھوں نے اس حق کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی سنت کے تحت اپنے ایک بندے کی زبان پر جاری کیا تھا۔ وہ اپنے عزت و وقار اور اپنے دنیوی مفاد کو سنبھالنے میں مشغول رہے۔ ایسے لوگ گویا اسی دنیا میں سجدہ کے وقت سجدہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی یہی حالت آخرت میں کھل کر سامنے آ جائے گی۔ دنیا میں ان کے دکھانے اور سنانے والے سجدے آخرت کے حقیقی عالم میں ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ آخرت میں اللہ کے آگے جھکنا کسی انسان کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس اعلیٰ اعزاز کے حق دار وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا ہو کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ عبادت خانہ میں آدمی اللہ کے سامنے جو ”سجدہ کرتا ہے وہ باعتبار ظاہرا قرار سجدہ ہے نہ کہ ثبوت سجدہ۔ آدمی عبادت کے وقت سجدہ کر کے یہ اققرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والا ہے مگر اس اقرار کا ثبوت اس کو بندوں کے ساتھ معاملات میں دینا ہے۔ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں جب تک وہ ”جھکنے“ کا رویہ اختیار نہ کرے اس کا اقرار بے ثبوت رہتا ہے اور بے ثبوت اقرار کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: اللہ وہ نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ دے اس حالت پر جس پر کہ تم ہو جب تک وہ جدا نہ کر دے نا پاک کو پاک سے (آل عمران ۱۹) گویا ایمان قبول کر کے آدمی ”نماز روزہ“ کی جو عام زندگی اختیار کرتا ہے اسی سے اس کے لئے جنت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ بلکہ لازماً اس کو جانچا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس کا نماز روزہ حقیقی نماز روزہ ہے یا " دیکھنے اور سننے والا “ نماز روزہ ہے۔ یہ جانچ کہاں ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا تو سامنے نہیں آنا، خدا کے فرشتے کوئی قلب نما آلہ لے کر آسمان سے اترتے۔ یہ جانچ انسان اور انسان کے معاملات میں ہوتی ہے ، آدمی نماز کے ذریعہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جھک جانے ماننا ہے۔ روزہ کے ذریعہ وہ اققرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے ڈر سے اس کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دینے والا ہے۔ اس اقرار کا عملی امتحان انسانی تعلقات میں ہونا ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک حق کا معاملہ آ جاتا ہے۔ وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے ۔ خواہ یہ جھکنا بظاہر ایک کمزور انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ ایسے موقع پر آدمی اگر جھک جائے تو گویا وہ اللہ کے آگے عملی طور پر جھک گیا۔ اس نے نماز میں کئے ہوئے اپنے اقرار سجدہ کو سچائی ثابت کیا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک حق کا معاملہ جو بظاہر کسی انسان کی نسبت سے سیتی آرہا ہے اس کو وہ محض انسان کا معاملہ سمجھ لے اور عزت و وقار کا خیال اس کو سرکشی پر آمادہ کر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جھکنے کے وقت وہ اللہ کے آگے نہیں جھکا، اس نے اپنے اقرار سجدہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔ اسی طرح انسان اور انسان کے درمیان معاملات میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جائز اور نا جائز کے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ انسان سے معاملہ کرتے ہوئے اس کے لئے ایک رویہ ظلم کا رویہ ہوتا ہے اور دوسرا انصاف کا رویہ۔ ایسے موقع پر آدمی اگر خدا کے منع کئے ہوئے طریقہ سے رک جائے اور اپنے کو صحیح اور منصفانہ رویہ کا پابند بنائے تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ روزہ رکھ کر اس نے اطاعت الہی کا جو اقرار کیا تھا اس کو اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا عملی ثبوت دے دیا۔ اس کے برعکس اگر معاملہ کے وقت اس پر مفاد اور مصلحت کا خیال آجائے ، وہ انصاف کے طریقے کو چھوڑ کر ظلم اور بے راہ روی کا طریقہ اپنا لے تو گویا اس نے خدا کی اطاعت نہیں کی۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page