نماز میں خشوع
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
بندہ کو اپنے رب کے سامنے جو ’’سجدہ‘‘ کرنا ہے، اس کے تین خاص مواقع ہیں۔ ایک موقع وہ ہے جس کو اعتراض حق کہا جاسکتا ہے۔ اللہ اپنے کسی بندے کی زبان سے جیب حق کا اعلان کرائے تو لوگوں کے اوپر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر لبیک کہیں، وہ اپنے رب کی آواز کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیں۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ان کی مثال اس بدقسمت بچہ کی ہوگی جو اپنے مہربان باپ کو دیکھنے کے لئے اندھا ہوجائے اور اس کی آواز کو سننے کے لئے اپنے کان کو بہرا کرلے۔ خدا کی آواز اگرچہ ایک انسان کی زبان سے بلند ہوتی ہے مگر وہ ایک ایسی آواز ہوتی ہے جس کی تصدیق سارے زمین و آسمان کررہے ہوتے ہیں اور آدمی کی اپنی فطرت پوری طرح جس کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔ ایسی آواز کے آگے نہ جھکنا اتنا بڑا انکار سجدہ ہے جس کے بعد ظاہری سجدوں کی کوئی قیمت نہیں۔ سجدہ کے جانچ کا دوسرا میدان اللہ کی راہ میں قربانی ہے۔ اللہ کا یہ مطلوب ہے کہ وقت کے تمام ذرائع اور وسائل کو استعمال کرکے اس کا دین لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دین کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کا ممکن انتظام کیا جائے۔ کچھ مخالفین اگر خدا کے دین کو دبانا چاہیں تو اللہ کے وفادار بندے کھڑے ہوکر دین کی طرف سے دفاع کریں خواہ اس راہ میں ان کو اپنا سب کچھ لٹادینا پڑے۔ یہ دین کے لئے قربانی کے مواقع ہیں۔ جو لوگ ان مواقع پر اپنے جان و مال کو پیش کریں وہ جانچ میں پورے اترے، اور جو لوگ اپنے جان و مال کو دین کی ضرورتوں میں نہ دیں وہ جانچ میں نا کام ہوگئے۔ ’’سجدہ‘‘ کے امتحان کا تیسرا میدان روزمرہ کے انسانی تعلقات ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاملہ کرتے ہوئے جب بھی ایسا ہو کہ دو قسم کا رویہ سامنے آجائے۔ ایک وہ ہو جس کا حکم اللہ نے دیا ہے، دوسرا وہ ہوجا اپنے جی کی خواہش کے مطابق ہے۔ اس وقت جو شخص اللہ کے حکم کے آگے جھک گیا وہ اللہ کے آگے سجدہ کرنے والا بنا اور جو شخص اپنے جی کی خواہش پر چلا اس نے گویا سجدہ سے انکار کردیا۔ نماز میں رکوع کے لئے جھکنا اور سجدہ کے لئے گر پڑنا اگر حقیقی معنوں میں جھکنا اور گر پڑنا ہو تو مسجد کا سجدہ اور مسجد کے باہر کا سجدہ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔ بلکہ دونوں ایک ہی واقعہ کی دو مختلف صورتیں بن جاتی ہیں۔ اسی طرح روزہ میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑنا اگر سجے شعور اور جذبہ کے ساتھ ہو تو رمضان کے مہینے میں ہی انکی ممنوعات کو چھوڑنا اور اس کے بعد زندگی کے معاملات میں خدا کی ممنوعات کو چھوڑنا زوا الگ الگ چیزیں نہیں رہتیں، بلکہ ایک ہی تصویر کے دورخ بن جاتے ہیں۔ جو شخص اس طرح سجدہ کرنے والا اور اس طرح روزہ رکھنے والا بن جائے وہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے، وہ آخرت کی فضاؤں میں سانس لینے لگتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اللہ کے داعی کو پہچان کر اس کا اعتراف کر لینا یا اللہ کے دین کے لئے قربانی دینا ایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کسی شخص کا اپنے محبوب بیٹے کو پہچاننا اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردینا۔ آخرت کا دن سچائی کے اعتراف کا دن ہے، اس دن وہی لوگ سچائی کے اعتراف کی توفیق پائیں گے جنہوں نے دنیا میں سچائی کے اعتراف کا ثبوت دیا ہو۔ آخرت کا دن مالک کائنات کے آگے جھکنے کا دن ہے، اس دن وہی لوگ مالک کائنات کے آگے جھکنے کے رہی ہوں گے جو دنیا کے معاملات میں اس کے آگے جھکنے والے بنے ہوں، آخرت کا دن اللہ کی رحمتوں میں شامل ہونے کا دن ہے۔ اس دن وہی لوگ اللہ کی نعمتوں میں شامل ہوں گے جنہوں نے اس وقت اللہ کی پکار پر لبیک کہا ہو جب کہ اللہ اگلی پردۂ غیب میں ہے۔ آخرت کا دن وہ دن ہے جب کہ اللہ اپنی تمام نعمتیں اپنے بندوں پر انڈیل دے گا، ایسے انعام میں حصہ پانے والا وہی شخص ہوسکتا ہے جس نے دنیا میں اپنے تمام اثاثہ کو اللہ کی راہ میں قربان کردیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader