Urdu book · حکمتِ اسلام

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اُصول کی روشنی میں دیکھئے تو دار الاسلام اور دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحوں كے بارے میں کتاب وسنت میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ ایسی حالت میں کسی عالم یا فقیہہ كے لیے یہ درست نہیں کہ اس رہنمائی کے باوجود وہ اس معاملہ میں اجتہاد کر کے بطورِ خود نئی اصطلاحیں وضع کرے۔ فقہاء نے جن حالات کی نشاندہی کر کے ان کے تسمیہ (nomenclature) کے لیے یہ تین بنیادی اصطلاحیں وضع کی ہیں وہ حالات مبینہ طور پر دورِ نبوت میں موجود تھے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات کے لیے فقہاء جیسی اصطلاحیں مقرر نہیں فرمائیں ۔ ایسی حالت میں اصطلاح سازی کا یہ معاملہ اجتہادی اجازت سے خارج قرار پائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں عین اُس نوعیت کے حالات تھے جن حالات کے حوالہ سے بعد کو فقہاء نے دار الکفر کی اصطلاح وضع کی ۔ یعنی فقہاء کی تقسیم کے مطابق، بعثت سے لے کر ہجرت تک کا مکہ حکماً دار الکفر کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں ایسا کوئی حوالہ موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ قبل از ہجرت دور (pre-migration period) کے لیے دار الکفر کی اصطلاح مقرر کی گئی۔ رسول اللہ کی ہجرت کے بعد اہل مکہ نے کھلے طور پر آپ کے خلاف مسلح کارروائی شروع کر دی۔ اس طرح ہجرت کے بعد مسلمان اور اہل مکہ ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ (at war) ہو گئے۔ گویا ہجرت کے بعد (post-migration) مکہ میں عین وہی حالت پیدا ہوگئی جس کو ایک نام دینے کے لیے بعد کے فقہاء نے دار الحرب کی اصطلاح وضع کی۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، قرآن و حدیث میں بعد از ہجرت مکہ کے لیے کبھی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ نہ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ مکہ اب دار الحرب ہو چکا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اُس وقت کے مکہ کے لیے دار الحرب کا لفظ استعمال فرمایا۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہجرت کے بعد مدینہ میں پیغمبر اسلام کی سرپراہی میں مسلمانوں کی وہ اجتماعی تنظیم قائم ہوگئی جس کو اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں عین وہی حالت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page