دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدا ہوگئی جس کو بتانے کے لیے فقہاء، دار الاسلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ مگر اب بھی ایسا نہیں ہوا کہ قرآن میں اُس وقت کے مدینہ کے لیے دار الاسلام کا لفظ استعمال کیا جائے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مدینہ کو کبھی دار الاسلام کا لقب عطا فرمايا۔ قرآن میں جنت کے لیے دار السلام (یونس ۲۵) کا لفظ آیا ہے مگر کسی زمینی خطہ کے لیے دار الاسلام یا دار الایمان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اسی طرح قرآن میں منکرین حق کی اخروی قیام گاہ دار البوار (ابراهیم ۴۸) کہا گیا ہے۔ مگر کسی زمینی خطہ کو قرآن میں دار الكفر یا دار الکفار نہیں کہا گیا۔ گویا کہ فقہاء کی تقسیم کے مطابق، دارالاسلام، دارالکفر اور دارالحرب جیسے حالات کی موجودگی کے باوجود یہ جائز نہیں کہ ان کو بتانے کے لیے درالاسلام، دار الحرب یا دار الكفر کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ یہ اصطلاح سازی ایک بدعت ہے، نہ که سنت ۔ مذکورہ تجزیہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ فقہاء نے جن ارضی تقسیمات کو بتانے کے لیے دار الاسلام اور دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں وضع کیں، وہ تقسیمات خود زمانہ نبوت میں عملاً ظہور میں آچکی تھیں۔ مگر ان کو بتانے کے لیے کتاب و سنت میں ان سہ گانہ اصطلاحوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ عباسی دور کے فقہاء نے ان اصطلاحوں کو وضع کرنے میں حدود اجتہاد سے تجاوز کیا۔ فقہاء نے ایک ایسے معاملہ میں اجتہاد کیا جس کے لیے انہیں شرعی طور پر مجاز نہیں کیا گیا تھا۔ ایسی حالت میں محتاط طور پر صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقہاء کی یہ اصطلاح سازی اجتہادی خطا کا ایک واقعہ تھا، وہ یقینی طور پر اجتہادی صحت کا واقعہ نہ تھا۔ ایسی حالت میں اسلام کے ایک طالب علم کو جائز طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس اجتہاد کو تسلیم نہ کرے۔ اگر شرعی زبان استعمال کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ ایک اصطلاحی بدعت تھی اور وہ بہر حال اس قابل ہے کہ اس کو رد کر دیا جائے۔ کیوں کہ حدیث میں واضح طور پر آیا ہے که: من أحدث في أمرنا هذا ماليس منه فهو رد (البخاری، مسلم) یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اُس میں نہیں ہے تو وہ قابل رد ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader