Urdu book · حکمتِ اسلام

خدا اور آخرت

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا اور آخرت تخلیق اپنے آپ میں خالق کا ثبوت ہے۔ کائنات اتنا زیادہ با معنی واقعہ ہے کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ کسی کے بنائے بغیر وہ بن گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لیے چوائس باخدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے بلکہ حقیقی انتخاب باخدا کائنات یا غیر موجود کائنات میں ہے۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں خود کا ئنات کو غیر موجود ماننا پڑے گا۔ اور ہمارے لیے ایسا چوائس سرے سے ممکن ہی نہیں۔ The choice for us in this regard is not between universe with God or universe without God. This is not the choice. The real choice is between universe with God or no universe at all. If we say that God does not exist then we are also compelled to say that the universe does not exist. But the universe is too obvious a fact that we are not in a position to deny the existence of the universe. So we can not deny the existence of God. با معنی کائنات سر جیمس جنیز نے کہا تھا کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی دماغ (mathematical mind) ہے۔ میں کہوں گا کہ ہماری دنیا اتنی زیادہ با معنی ہے کہ وہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق معنویت کا گہرا شعور رکھتا ہے۔ ایسا خالق ایک ایسی دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا جو اپنے انجام کے اعتبار سے ناقص ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک با معنی خالق ایک بے معنی کائنات کی تخلیق کرے۔ کائنات اپنی ساری معنویت کے باوجود اپنی موجودہ حالت میں ناقص ہے۔ وہ اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ یہی وہ دنیا ہے جس کو پیغمبروں نے آخرت کی دنیا کہا ہے۔ یہ آخرت کی دنیا صرف عقیدہ کی بات نہیں۔ وہ پوری طرح ایک علمی واقعہ ہے۔ عالم آخرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page