خدا اور آخرت
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
کے وجود کو ٹھیک اسی معیار پر ثابت کیا جاسکتا ہے جس معیار پر سائنس میں دوسری چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔ سائنسی ثبوت اس معاملہ میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سائنٹفک پروف کیا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق ، سائنٹفک پروف یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے معاملہ میں تیقن (certainty) کا درجہ حاصل ہو جائے ۔ اس قسم کا نا قابل انکار تیقن کسی بھی چیز کے بارے میں ممکن نہیں۔ جدید سائنسی موقف کے مطابق ، کسی چیز کا علمی طور پر ثابت ہو جانا یہ ہے کہ اس کا قرینہ یا امکان (probability) ثابت ہو جائے۔ جدید سائنس میں جن نظریات کو مسلمہ کے طور پر مانا جاتا ہے ان کو صرف اس لیے مانا جاتا ہے کہ ان کا امکان ثابت ہو گیا نہ یہ کہ مشاہداتی سطح پر ان کے واقع ہونے کا قطعی علم حاصل ہو گیا ہے۔ ایٹم کے اسٹرکچر کو بطور حقیقت ماننا اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ عالم آخرت کے وجود کو ماننے کے لیے بھی ہمیں اسی مسلمہ سائنٹفک میتھڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے سوا کسی دوسرے میتھڈ کو استعمال کرنا اصولی طور پر درست نہیں۔ کیوں کہ علمی طور پر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ دوسرے معاملات میں جس سائنٹفک میتھڈ کو ہم معقول (valid) مانیں، عالم آخرت کے بارے میں ہم اس میتھڈ کے استعمال سے انکار کر دیں۔ تین علمی اصول جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملہ میں تین علمی اصول سائنٹفک میتھڈ کے تین اجزاء ہیں ۔ وہ اجزاء یہ ہیں ۔ مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق : Hypothesis, Observation, Verification اس سہہ نکاتی فارمولا کو عالم آخرت کے وجود کے معاملہ میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طور پر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty) ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader