خدا اور آخرت
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
اس موضوع کا مطالعہ کرتے ہوۓ پہلا قرینہ یہ سامنے آتا ہے کہ انسان دوسری مخلوقات سے مختلف ہے۔ یہ انسان کی ایک استثنائی صفت ہے کہ وہ کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ انسان کے سوا جمادات اور نباتات اور حیوانات میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے اندر کل کا تصور رکھتا ہو۔ اس مشاہدہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے سوا دوسری تمام مخلوقات کی منزل صرف آج ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی منزل آئندہ آنے والے کل (tomorrow) سے تعلق رکھتی ہے۔ انسانی جسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم ان گنت خلیوں (living cells) سے بنا ہے۔ یہ خلیے ہر لمحہ ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم بار بار پرانے کے بعد نیا ہوتا رہتا ہے جیسا کہ بہتے ہوۓ دریا کا پانی ہر وقت پرانا اور نیا ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ ایک مستقل وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسم پر موت واقع ہوتی ہے مگر اس کی روحانی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر نہایت گہری خواہشیں موجود ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان خواہشات کو طلب کرنے والا ایک حیوان ہے: Man is a desire-seeking animal. مگر اسی کے ساتھ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی بھی انسان کی یہ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں ۔ ہر انسان اپنی خواہشات کے مطابق اپنے لیے ایک معیاری دنیا بنانا چاہتا ہے مگر ہر انسان جلد ہی مر جاتا ہے، اس سے پہلے کہ اس نے اپنی خواہشوں کے مطابق اپنا مطلوب کل بنایا ہو۔ امید کی کرن امریکی مصنفری بلی گراہیم نے لکھا ہے کہ اس کو ایک بار ایک امریکی دولت مند کا ارجنٹ پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ مجھ سے فورا ملو ۔ بلی گراہیم نے اپنا پروگرام ملتوی کر دیا۔ وہ فوراً سفر کر کے مذکورہ امریکی دولت مند کے پاس پہنچا۔ بلی گراہیم کا بیان ہے کہ جب میں امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو وہ فوراً مجھ کو اپنے وسیع مکان کے ایک الگ کمرہ میں لے گیا۔ یہاں ہم دونوں دو کرسیوں پر آمنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader