Urdu book · حکمتِ اسلام

دعوت کا عمل

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کا عمل قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا (الملک ۲) موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی انسان کا ذاتی حق نہیں بلکہ وہ امتحان کی مہلت ہے۔ جو شخص خدا کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق زندگی گزارے گا اس کو خدا ابدی جنت میں جگہ دے گا اور جو شخص خدا کے نقشہ کے خلاف چلے گا اس کو خدا ابدی جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ نقشہ حیات کیا ہے۔ اس کو بتانے کی ذمہ داری خدا نے خود اپنے اوپرلی ہے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وان علينا للهدیٰ (اللیل ۱۲) یعنی یہ خدا کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسان کو صحیح راستہ دکھائے : Surely it is for God to guide mankind. اس مقصد کے لیے خدا نے ایک قابل اعتماد انتباہی نظام (warning system) قائم کیا۔ اس انتباہ کے لیے خدا نے یہ کیا کہ انسان کی تاریخ کے آغاز ہی سے اپنے پیغمبر انسان کے پاس بھیجنا شروع کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے (النماء ۱۶۵) قرآن میں مزید بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہ پیغمبر بلا وقفہ لگا تار بھیجے جاتے رہے (المؤمنون ۴۴) پیغمبروں کے اس سلسلہ کی آخری کڑی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب تھے۔ ۲۳۲ ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ خدا کے فیصلہ کے مطابق، آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ تاہم نبوت کے کام کی ضرورت بدستور باقی ہے۔ خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد لوگوں کو آگاہ کرنے کا یہ کام آپ کی امت کے ذریعہ انجام دیا جائے ۔ خدا کے اس فیصلہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو (الحج ۷۸) اس خدائی انتظام کے تحت یہ ہوا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد حق کی پیغام رسانی کا کام آپ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page