Urdu book · حکمتِ اسلام

دعوت کا عمل

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

امت کے ذریعہ ہونے لگا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر سے لے کر اٹھارہویں صدی کے نصف اول تک یہ کام بذریعہ امت مسلسل جاری رہا۔ اس کے بعد خدا نے اپنے خصوصی انتظام کے تحت دعوت کے اس کام کو خود انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) کے طور پر داخل کر دیا۔ اس طرح اس انتہاجی نظام کے تین دور قرار پاتے ہیں۔ ۱۔ رسولوں کے ذریعہ آغاز انسانیت سے ساتویں صدی کے نصف اول تک۔ ۲۔ امت محمدی کے ذریعہ ساتویں صدی کے نصف ثانی سے لے کر اٹھارہویں صدی کے نصف اول تک۔ ۳۔ تاریخی عمل کے ذریعہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بعد کے زمانہ تک۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کو دنیا کے بڑے رقبہ میں سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا۔ اس اقتدار کے زمانہ میں مسلمان نسل در نسل کم و بیش دعوت کے عمل کو انجام دیتے رہے۔ اس پر امن دعوتی عمل کی تفصیل ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی ۵۰۸ صفحہ کی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The preachings of Islam (1896) اٹھارہویں صدی میں یہ ہوا کہ یورپ کی نو آبادیاتی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر اٹھیں اور انہوں نے پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ قائم کر دیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مسلمانوں کے لیے یہ داخلی احتساب (introspection) کا وقت تھا مگر مسلم رہنما رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے اس وقت مسلمانوں کو شکایت اور احتجاج میں مبتلا کر دیا۔ وہ غالب قوموں کے خلاف نفرت اور انتقام کی نفسیات میں جینے لگے۔ یہ منفی ذہن ابتدائ یورپپی قوموں کے خلاف پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ پھیلتا رہا یہاں تک کہ وہ تمام غیر مسلم قوموں تک پہنچ گیا۔ یورپی، امریکی، عیسائی، یہودی، ہردو، غرض دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں کے لیے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کے لیے پوری طرح نا اہل ہو گئے۔ انسانی خیر خواہی (human interest) ان کا کَنْسَرن (concern)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page