دعوت کا عمل
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
اندر بہت بڑے پیمانہ پر تجسس کی روح جگادی۔ یہ تجسس مادی دنیا کے مطالعہ سے شروع ہوا اور پھر وہ تمام شعبوں تک پھیل گیا۔ چنانچہ اس کے زیر اثر مذاہب کا مطالعہ بھی بہت بڑے پیمانہ پر کیا جانے لگا۔ انسانی تاریخ میں یہ ایک نیا ظاہر ہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اسلام سے متعارف ہوئے۔ مثال کے طور پر بنگال کے ایک اعلی تعلیم یافتہ ہندو ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیایا اسی طرح اسلام کے قریب پہنچے اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ قدیم زمانہ میں مذاہب کا مطالعہ متعصبانہ انداز میں کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ چیزوں کو سائنٹفک نقطہ نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس کے نتیجہ میں مذاہب کا غیر متعصبانہ مطالعہ پیدا ہوا۔ مطالعہ کا یہ سلسلہ اسلام تک بھی پہنچا۔ چنانچہ میرے ذاتی علم کے مطابق، موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر لکھی جانے والی اکثر بہترین کتابیں وہ ہیں جو غیر مسلموں نے لکھی ہیں۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: 1. Prof. T. W. Arnold, The preachings of Islam. 2. Dr. Mourice Bukaue, Bible, The Science and Qur'an. 3. Dr. Michael H. Hart, The 100 4. Karen Armstrong, Mohammad ۶۔ سائنسی تحقیقات کے تحت جو چیزیں دریافت ہوئیں وہ اصلاً سیکولر تحقیق کا نتیجہ تھیں۔ مگر ان کے ذریعہ سے بہت سے ایسے حقائق سامنے آئے جو قرآن کے عقائد کی سائنسی تصدیق کے ہم معنی تھے۔ ان حقائق کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک تحقیق کا حوالہ دیا جاسکتا ہے، وہ ہے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ۔ ۷۔ جدید دور میں جو فکری انقلابات آئے ان میں سے ایک اہم انقلاب وہ تھا جس کو مذہبی آزادی (religious freedom) کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ آج انسان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔ جب تک کوئی شخص تشدد نہ کرے اس کو مذہب کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔ اسی آزادی نے اس قدیم برائی کو ختم کیا جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader