Urdu book · حکمتِ اسلام

دعوت کا عمل

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مسیحی دنیا میں اتنے بڑے بڑے اسلامی مراکز قائم ہیں جو مسلم ملکوں میں بھی نہیں۔ اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے تمام بند دروازے کھول دیے ۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اقوامِ عالم کی عالمی تنظیم (U.N.O) کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے سرکاری طور پر یہ اعلان کیا کہ ان کے ملکوں میں لوگوں کو کامل مذہبی آزادی حاصل رہے گی۔ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ کسی کی مذہبی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے۔ ۸۔ جدید دور میں سائنسی مطالعہ نے ایک کام یہ کیا ہے کہ اُس نے شرک کی نظریاتی جڑ کاٹ دی۔ قدیم زمانہ میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں جب کئی طرح کی چیزیں ہیں تو خداؤں کی تعداد بھی کئی ہوگی۔ اس کے زیر اثر شرک (polytheism) کا عقیدہ پیدا ہوا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ بظاہر مختلف ہونے کے باوجود تمام چیزوں کی اصل بالا ترا ایک ہے۔ اور وہ ایک برقی لہر ہے جس کو الکٹران (electron) کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ایک سائنسداں نے کہا ہے کہ : The world is nothing but a mad dance of electrons. اس طرح جدید دریافت نے شرک کو بے بنیاد ثابت کیا اور توحید کے حق میں ایک نظریاتی بنیاد فراہم کردی۔ ۹۔ موجودہ زمانہ میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کو ادارے (institutions) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسانی سماج میں صرف ایک ہی ادارہ ہوا کرتا تھا، اور وہ سیاسی ادارہ تھا جس میں صرف بادشاہ کو سپریم حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاست کا دائرہ محدود ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ غیر سیاسی ادارے قائم کر کے وہ سب کچھ آزادانہ طور پر کیا جاسکے جس کو پہلے صرف سیاسی ادارہ کے تحت ہی ممکن سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار سیاسی اقتدار کا مرکزی رول ختم ہوگیا۔ اب سیاسی اقتدار کے بغیر سب کچھ کرنا ممکن ہو گیا۔ اس عموم میں بلاشبہ مذہب کی آزادانہ اشاعت بھی شامل ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page