قومی بیداری
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی بیداری یونان کا ایک قدیم شہر ہے جس کا نام سالونیکا ہے۔ اس کا دوسرا نام تھیسالونیکا ہے۔ ۱۹۱۲ء تک یہاں ترکوں کی حکومت تھی جو پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کی شکست کے بعد ختم ہو گئی۔ یہ یونانی شہر ۳۱۵ ق م میں باقاعدہ طور پر آباد کیا گیا۔ موجودہ انجیل میں سینٹ پال کے جو خطوط ہیں ان میں سے دو خط یہاں کے ان مسیحیوں کے نام ہیں جنھوں نے ابتدا مسیحی مذہب قبول کیا تھا۔ یہاں یہودی تقریباً پچاس ہزار کی تعداد میں آباد تھے۔ مگر ۱۹۴۳ء میں نازیوں نے ان میں سے بیشتر کا خاتمہ کر دیا۔ نیز اس مقام پر جتنے یہودی آثار تھے ان کو بھی مٹا دیا۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۷ دسمبر ۱۹۸۳) میں بتایا گیا تھا کہ اب یہاں کی بقیہ یہودی آبادی نے اپنی تنظیم قائم کی ہے۔ اس تنظیم کے صدر لیون بن میور (Leon Bin Muir) سے پوچھا گیا کہ یہودیت نے یہاں کیا چیزیں کھوئی ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ تقریباً ہر چیز (almost every thing) انھوں نے مزید کہا کہ یہ صرف مصیبت کے لمحات ہیں جب کہ ہمارے نوجوان لوگ اپنے کو یہودی محسوس کرتے ہیں: It is only in moments of peril that the younger people feel (themselves) Jewish. یہ بات جو یہودی عالم نے یہودیوں کے بارہ میں کہی، وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے بھی درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم نوجوانوں میں، ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کے الفاظ میں، اسلام زندہ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ اس کو صحوہ اسلامیہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض قومی مصیبت کی زمین پر ابھرنے والا اسلام ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت کی زمین پر ابھرنے والا اسلام ۔ قرآن (۵۱/۴۱) کے مطابق اس قسم کی مذہبیت معتبر نہیں۔ حقیقی مذہبیت وہ ہے جو معرفتِ خداوندی کی بنیاد پر ابھرے نہ کہ مصیبت قومی کی بنیاد پر ۔ جس کا سرچشمہ حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت ہو، نہ کہ مادی مسائل میں مبتلا ہونا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader