علم کی اہمیت
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کی اہمیت ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ محمد کو اس اعتبار سے شہرت حاصل ہے کہ انھوں نے اپنے پیروؤں کو علم حاصل کرنے کی تاکید کی ۔ خواہ اس کے لیے انھیں چین جانا پڑے۔ مورخین بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگی قیدیوں کو یہ اجازت دی کہ وہ قید سے اس طرح رہائی حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ایک خاص تعداد میں مسلمانوں کو پڑھنا اور لکھنا سکھا دیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ ہی میں ایسے مکاتب قائم ہو گئے تھے جہاں لوگوں کو تعلیم دی جائے اور انھیں خواندہ بنایا جا سکے۔ مسلمانوں میں تعلیم مختلف طریقوں سے پھیلی۔ مثلاً قرآن، حدیث اور فقہ کو سیکھنے کے ذریعہ ۔ عربی زبان چونکہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے ضروری تھی، اس لیے عربی بھی ان کی تعلیم کا جز بنی رہی۔ اسی کے ساتھ منطق اور کلام بھی۔ فقہ کا علم گاؤں تک کے لوگوں کے لیے ضروری تھا۔ اس لیے معاشرہ کی ہر سطح پر علم پھیل گیا۔ ہر مسجد مہد ہونے کے ساتھ مدرسہ کا بھی کام کرنے لگی۔ لوگ مسجد کے صحن میں جمع ہو کر حدیث اور فقہ پر مباحثہ کرنے لگے۔ جب کبھی کوئی شخص مستند عالم کی حیثیت اختیار کر لیتا تو لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے اور اس کا گھر ایک مدرسہ بن جاتا۔ لوگ ایک مسجد سے دوسری مسجد کا سفر کرنے لگے تاکہ مستند علما سے علم حاصل کر سکیں۔ بہت سی مسجدوں میں کتب خانے بن گئے۔ یہ کتب خانے عوام کے لیے حصول علم کا مستقل ذریعہ تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کتب خانہ اسلامی معاشرہ کا ایک اہم جز تھا۔ بہت سے ادارے ایسے قائم تھے جہاں ایک لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں ۔ وہ لٹریچر جس نے یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے محرک کا کام کیا، اس کا بیشتر حصہ انھیں مسلم کتب خانوں کے عربی ترجموں سے حاصل کیا گیا تھا۔ مذکورہ مستشرق اس قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ مذہب اسلام نے علم اور تعلیم کے حصول کے لیے ایک مستقل دباؤ پیدا کیا۔ رسمی مدرسوں (اور بغداد کی نظامیہ اور قاہرہ کے الازہر جیسی یونیورسٹیوں) کے علاوہ اسلام میں دوسرے بہت سے طریقے ظہور میں آتے جو لوگوں کے لیے علم کے حصول کا ذریعہ تھے : Encyclopaedia Britanica, 1984, Vol. 15 علم کے بغیر آدمی نہ دنیا کو سمجھ سکتا اور نہ دین کی گہری معرفت حاصل کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم کو نمبر ایک اہمیت دی ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ ہر ممکن ذریعہ کو اختیار کر کے علم حاصل کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader