Urdu book · حکمتِ اسلام

راستہ یہاں ہے

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

راستہ یہاں ہے ہندوستان کی آریہ سماج نے اپنی ۷۶ سالہ جشن جبلی کے موقع پر مختلف مقامات پر ہفتہ منانے کا انتظام کیا تھا۔ اس سلسلے میں سیوہارہ (بجنور) میں نومبر ۱۹۵۹ میں ایک آن مذاہب کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے اور مثبت انداز میں اپنے اپنے مذہب کا تعارف پیش کیا۔ راقم الحروف نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے ۲۹ نومبر ۱۹۵۹ کو اپنا مقالہ پڑھا۔ ۲۔ ہندوستان میں ایک ادارہ ہے۔ اس کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہے اور اس کا نام ہے مذاہب کی عالمی انجمن (World Fellowship of Religions) اس ادارہ کی تیسری سالانہ کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ بیرون ملکوں سے مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر، ۲۷ فروری ۱۹۶۵ کے اجلاس میں میں نے مذہب اور سائنس کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ ۳۔ آریہ سماج (الہ آباد) نے مئی ۱۹۶۰ میں اپنی گولڈن جوبلی منائی۔ اس سلسلے میں ۲۲ مئی کو الہ آباد میں سرو دھرم سمیگن کا ایک پروگرام ہوا۔ اس سیمینار میں مختلف مذاہب کے علماء نے شرکت کی۔ اُس کا عنوان یہ تھا: ” مانو و کاشش کے لئے آپ کے ہی دھرم کو ماننا کیوں آو شیک ہے“ راقم الحروف نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنا مقالہ (منزل کی طرف) پیش کیا۔ غیر مسلموں کے اجتماع میں اسلام کے تعارف کا مجھے بار بار موقع ملا ہے اور ہر بار یہ تجربہ میرے لئے بہت خوش گوار ثابت ہوا ہے۔ بجنور کے مذکورہ بالا اجتماع میں صدارت کی کرسی پر مراد آباد کے ایک آریہ سماجی وکیل تھے۔ آخر میں جب انہوں نے اپنی صدارتی تقریر کی تو انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے صفائی کے ساتھ کہا کہ یہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کو پیش کیا ہے مگر،، حقیقت یہ ہے کہ صرف مولانا صاحب تھے جنہوں نے موضوع کا حق ادا کیا،،۔ یہ اعتراف حقیقت کسی شخص کا نہیں بلکہ اسلام کا تھا۔ اسلام کو جب بھی میدان میں لایا جائے گا وہ دوسرے دینوں کے مقابلہ میں ہمیشہ برتر ثابت ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page