Urdu book · حکمتِ اسلام

تنقید کا اصول

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

دین المسیح نکالی۔ یہ ضمیمہ کتاب ابن تیمیہ نے ایک عیسائی عالم کے جواب میں لکھی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک صحیح کتاب ہے ۔ مگر اس کی بہت سی باتیں مناظرانہ انداز کی ہیں۔ خالص شرعی معیار پر وہ درست نہیں ۔ مثال کے طور پر کتاب کے جڑ اہم میں انھوں نے اس بات کی مختلف دلیلیں دی ہیں کہ دین مسیح کے مقابلہ میں دین محمدی زیادہ کامل ہے ۔ ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا دین پہنچایا جبکہ دوسرے پیغمبروں نے پورا دین نہیں پہنچایا : فضمن الله له العصمة اذ ابلغ رسالاته اللہ نے تبلیغ رسالت کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ فلهذا | ارشاد الناس الى جميع الحق والقی وسلم کی حفاظت کی ضمانت لے لی تھی ۔ اس لئے آپ نے الی الناس ما لم يكن غيره من الانبياء القاء لوگوں کو پورا حق بتایا ۔ آپ نے لوگوں کو وہ باتیں خوفا ان يقتلوه كما يذكرون عن المسيح پہنچائیں جو آپ کے سوا دوسرے نبیوں کے لئے ممکن وغيره (صفحه ۱۴) نہ ہو سکیں کیوں کہ انھیں خوف تھا کہ لوگ ان کو قتل کر دیں گے جیسا کہ مسیح اور دوسرے نبیوں کے لئے ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ بات بذات خود صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دین کامل ہے ۔ مگر اس کی مذکورہ توجیہ ہرگز صحیح نہیں ۔ یہ قرآن کی تصریحات سے ٹکراتی ہے ۔ کیوں کہ قرآن میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ اللہ نے اپنے تمام پیغمبروں کی پوری مدد فرمائی ۔ کسی پیغمبر کو اللہ نے اس طرح بے حفاظت نہیں چھوڑا کہ وہ لوگوں کی تعدی کے خوف سے خدا کی وحی کو کامل طور پر لوگوں تک نہ پہنچائے۔ جہاں تک موجودہ انجیل کا تعلق ہے، اس میں اس سلسلہ میں متضاد باتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ایک طرف اس میں ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ جو باتیں میں نے اپنے باپ سے سنیں وہ سب تم کو بتا دیں (یوحنا ۱۵: ۱۵) دوسری طرف انجیل میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ساری باتیں نہیں بتا رہا ہوں ۔ تاہم اس کا سبب ، انجیل کے بیان کے مطابق قتل کا خوف نہیں بلکہ مخاطبین کا عدم تحمل ہے۔ اس سلسلہ میں انجیل کے الفاظ یہ ہیں ــــ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page