Urdu book · حکمتِ اسلام

تنقید کا اصول

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر بالفرض حضرت مسیح نے یہ کہا ہو کہ میں تم کو پوری بات نہیں بتا رہا ہوں تو اس کا سبب خود انجیل کے بیان کے مطابق ، یہ نہیں تھا کہ حضرت مسیح اس معاملہ میں اپنی ذات کے بارے میں خوف رکھتے تھے۔ بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ آنجناب کے نزدیک آپ کے مخاطبین اس کی استعداد نہیں رکھتے تھے کہ وہ پوری بات کا تحمل کرسکیں۔ یہ ایک عام شرعی اصول ہے جس پر خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہے۔ مثلاً مکہ میں آپ پر شراب اور اس طرح کی دوسری چیزوں کی بابت احکام نہیں اترے، کیوں کہ اس وقت لوگوں کے اندر اس کو قبول کرنے کا مادہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کسی بھی درجہ میں کوئی ممنوع چیز نہیں۔ جو چیز ممنوع ہے وہ اسلوب تنقید ہے نہ کہ خود تنقید۔ تنقید کا مطلب دلائل کے ذریعہ اختلاف رائے ہے۔ اس معنی میں تنقید بلاشبہ مطلوب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کو سب وشتم کرے یا بلا دلیل کسی کی مذمت کرنے لگے تو ایسا فعل یقیناً غیر شرعی ہوگا۔ اندیشہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ کے یہاں سخت پکڑ میں آجائے۔ مزید یہ کہ تنقید زندگی کی علامت ہے۔ زندہ قومیں تنقید کا استقبال کرتی ہیں۔ جو لوگ حق کے طالب ہوں وہ کبھی تنقید کو برا نہیں مانیں گے۔ البتہ جو لوگ شخصیتوں کے پرستار بن جائیں وہ ضرور تنقید کو سن کر بپھر اٹھیں گے، کیوں کہ تنقید کی زد ہمیشہ شخصیتوں پر پڑتی ہے نہ کہ حق و صداقت پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page