Urdu book · حکمتِ اسلام

ناقص ، جامع

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

خالی ہوتا ہے مگر اوپری طور پر دکھاوے والے اعمال کرتا ہے۔ مگر دینی حقیقت کے بغیر دینی ظاہرداری کی کوئی قیمت نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعها) اللہ کسی شخص پر صرف اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا اس کو دیا ہے (لا یکلف اللہ نفسا الا ما آتاھا) دوسری جگہ فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکے (فاتقوا الله ما استطعتم) اس طرح کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی واجبات کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ کسی مومن یا کسی مومن گروہ کی دینی ذمہ داری باعتبار استطاعت ہے نہ کہ باعتبار فہرست۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص کا دین ناقص نظر آئے گا، حتیٰ کہ انبیاء کرام کا بھی۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اجتماعی احکام نافذ نہیں کیے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے نماز یا جماعت قائم نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو والدین کے حقوق ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ وغیرہ۔ اسی طرح ہر پیغمبر کا دین ناقص اور نامکمل قرار پائے گا۔ کیوں کہ کسی بھی پیغمبر کے یہاں فہرست کے اعتبار سے واجبات دین کے کامل نفاذ کی مثال موجود نہیں۔ دین کی اصل حقیقت اخلاص ہے۔ جس آدمی کے اندر اخلاص ہو وہ کامل دین پر ہے اور جس آدمی کے اندر اخلاص نہ ہو وہ ناقص دین پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page