علم اور اسلام
Urdu book, p. 314
By Maulana Wahiduddin Khan
علم اور اسلام سکندر اعظم کے بعد بطلیموس ثانی (Ptolemy II) مصر کے علاقہ کا حکمراں ہوا۔ اس کا زمانہ تیسری صدی قبل مسیح ہے۔ وہ ذاتی طور پر علم کا قدرداں تھا۔ اس نے اسکندریہ میں ایک کتب خانہ بنایا جس میں مختلف علوم کی تقریباً ۵ لاکھ (500,000) کتابیں تھیں۔ یہی وہ کتب خانہ ہے جو تاریخ میں کتب خانہ اسکندریہ (Library of Alexanderia) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتب خانہ بعد کو (اسلامی دور سے پہلے) تباہ کر دیا گیا۔ اس کتب خانہ کے بارے میں غلط طور پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اس کو جلایا گیا۔ حالاں کہ ظہورِ اسلام سے بہت پہلے چوتھی صدی عیسوی میں اس کا وجود ختم ہو چکا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ (1984) نے لکھا ہے کہ وہ رومی حکومت کے تحت تیسری صدی عیسوی تک موجود تھا (1/227) اس کے بعد وہ باقی نہ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتب خانہ کا نصف حصہ جولیوس سیزر (Julius Caesar) نے ۴۸ قبل مسیح میں جلایا۔ تیسری صدی عیسوی میں مسیحیوں کو اس علاقہ میں غلبہ حاصل ہوا۔ اس دوران غالباً ۳۹۱ء میں مسیحیوں نے اس کو جلا کر آخری طور پر ختم کیا۔ اس بات کا اعتراف انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا نے ان الفاظ میں کیا ہے: These institutions survived until the main museum and library were destroyed during the civil war of the 3rd century AD; a subsidiary library was burned by Christians in AD 391 (1/479). دو جگہ اس واضح اعتراف کے باوجود اسی انسائیکلوپیڈیا میں تیسرے مقام پر غیر ضروری طور پر کتب خانہ کی بربادی کو مسلم عہد کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ ”سنرشپ“ کے مقالہ کے تحت درج ہے کہ اس بات کے مختلف ثبوت موجود ہیں کہ اسکندریہ کا کتب خانہ مختلف مرحلوں میں جلایا گیا ۔ ۴۸ ق م میں جولیوس سیزر کے ذریعہ، ۳۹۱ء میں مسیحیوں کے ذریعہ، ۶۴۲ھ میں مسلمانوں کے ذریعہ۔ بعد کے دونوں موقع پر یہ کہا گیا کہ ان کتابوں سے مسیحیت اور قرآن کو خطرہ ہے: In the latter two instances, it was alleged that pagan literature presented a danger to the Old and New Testaments or the Quran. (3/1084) یہاں کتب خانہ اسکندریہ کی بربادی کے واقعہ کو اسلام کے ساتھ منسوب کرنا کسی طرح درست نہیں۔ خود برطانیہ کا کے مذکورہ بالا دو اقتباسات اس کی واضح تردید کر رہے ہیں۔ اسلام عین اپنی فطرت کے اعتبار سے علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ علم کی حوصلہ شکنی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ اسلام دورِ جدید کا خالق)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader