عالم کون
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم کون فارسی کا ایک قطعہ ہے کہ ــــــ وہ شخص جو نہیں جانتا مگر جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے وہ ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ اور جو شخص جانता ہے مگر جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا وہ لنگڑا گدھا ہے جو منزل پر پہنچ جائے گا : آن کس که نداند و بداند که بداند در جهل مرکب ابد الدهر بماند و آن کس که بداند و بداند که نه داند او نیز خر لنگ به منزل برساند عالم ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی کو اپنی بے علمی کا احساس ہونے لگے۔ علم یا معلومات کا دائرہ اتنا زیادہ وسع ہے کہ کوئی بھی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے ایک بے علم یا جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔ مگر جو آدمی علم کے سمندر میں داخل ہو وہ وہاں سے صرف یہ احساس حاصل کرے گا کہ میں تو کچھ نہیں جانتا۔ اس کا ہر علمی اضافہ صرف اس کے احساس بے علمی کو بڑھائے گا۔ علم کی اسی نوعیت کی بنا پر یہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو آدمی علم کی وسیع دنیا سے بے خبر ہو وہ اپنی بے خبری کی بنا پر اس بے بنیاد احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ”میں سب کچھ جانتا ہوں“۔ ایسا آدمی ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ بے خبر جیتا ہے اور بے خبر ہی مر جاتا ہے۔ حقائق کی دنیا نا قابل بیان حد تک وسیع ہے۔ قیامت تک لوگ اس کو دریافت کرتے رہیں گے مگر کبھی بھی یہ حقائق ختم نہ ہوں گے۔ ایسی حالت میں جو آدمی یہ سمجھ لے کہ میں عالم ہو گیا اس نے گویا اپنے لئے نئی معلومات کا دروازہ بند کر لیا۔ اس کے برعکس جس کا احساس یہ ہو کہ ابھی میں نے نہیں جانا وہ ہر دن اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے گا۔ اس کا بے علمی کا احساس اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ اس کی دریافتوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ ہر روز نئی حقیقتوں سے وہ اپنے علمی خزانہ میں اضافہ کرتا رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader