Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 318

By Maulana Wahiduddin Khan

مرتد اور ارتداد ارتداد کے لفظی معنی ہیں لوٹنا یا پھر جانا ، اور مرتد وہ شخص ہے جو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹ جائے۔ عام طور پر یہ لفظ دینی ارتداد کے لیے بولا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے اور پھر وہ اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین کی طرف چلا جائے تو اس کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس معاملہ میں سب سے پہلی بات یہ جاننا چاہیے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے بلکہ وہ ایک فکری انحراف ہے ، اور فکری انحراف کرنے والا سب سے پہلے تبلیغ و نصیحت کا موضوع ہوتا ہے نہ کہ سزا کا موضوع ۔ اگر کوئی شخص اعلان کے ساتھ مرتد ہو جائے تو مسلم معاشرہ کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کرے ۔ وہ دلیل اور نصیحت کے ذریعہ مرتد کو آمادہ کرے کہ وہ دوبارہ اسلام کی طرف واپس آجاۓ۔ اگر قابلِ لحاظ مدت تک نصیحت پر عمل کرنے کے بعد بھی وہ شخص دوبارہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کے بعد بھی افرادِ معاشرہ کو یہ حق نہیں کہ وہ اس کو ماریں یا بطورِ خود اس کو کوئی سزا دیں۔ اس کے بعد انہیں یہ کرنا چاہیے کہ اس شخص کے معاملہ کو اسلامی عدالت کے حوالہ کر دیں۔ اب یہ عدالت کا کام ہوگا کہ وہ ضروری تحقیق کے بعد اس کے جرم کی نوعیت متعین کرے اور پھر اس کے بارے میں شرعی حکم کا فیصلہ دے۔ مرتد کی سزا کا مسئلہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نسبت سے جو سوالات قائم کیے گئے ہیں اُن میں سے ایک مشہور سوال وہ ہے جس کا تعلق اسلام میں مرتد کی سزا سے ہے۔ روایتی فقہ کے مطابق ، مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص جو باقاعدہ طور پر مسلم سماج کا ایک ممبر ہو، وہ اگر اعلان کے ساتھ یہ کہے کہ میں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے چھوڑ دیا۔ میں اب عقیدہ کے اعتبار سے مسلم نہیں۔ اس روش کو شریعت میں ارتداد یعنی اسلام سے پھر جانا کہا جاتا ہے ، اور جو شخص اس روش کا ارتکاب کرے اس کے بارے میں اکثر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page