Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہائے اسلام یہ کہتے ہیں کہ اُس کو حد شرعی کے طور پر قتل کر دیا جائے گا (يقتل حداً) فقہ اسلامی کے اس روایتی مسلک کو لے کر موجودہ زمانہ میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام ایک جبری مذہب ہے۔ اسلام میں مذہبی آزادی کا تصور موجود نہیں۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کا خالص علمی اور تحقیقی اعتبار سے مطالعہ کیا جائے اور کسی صحیح مسلک تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ زیر نظر مقالہ کا موضوع یہی ہے۔ اس مقالہ میں اولاً فقہ کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا فقہ، قرآن کی طرح ابدی ہے یا وہ قرآن کی ابدی تعلیمات کی زمانی تعبیر ہے اور وہ اس شرعی اصول کے ماتحت ہے کہ ”تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان“ یعنی زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ فقہ کی حیثیت کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ قرآن اسلام کی دوامی تعبیر ہے اور سنت اسلام کی زمانی تعبیر۔ یہ بات سنت رسول کے بارہ میں تو صحیح نہیں۔ البتہ فقہ کے بارہ میں ضرور وہ صداقت کا ایک پہلو رکھتی ہے۔ موجودہ مدون فقہ ان معنوں میں کوئی مطلق چیز نہیں جن معنوں میں قرآن یا ثابت شدہ سنت ایک مطلق چیز ہے۔ فقہ دراصل ایک مخصوص زمانہ میں اسلام کے عملی انطباق کی حیثیت سے وجود میں آئی۔ اس لیے اس کے اندر زمانی حالات کی چھاپ بالکل ناگزیر تھی۔ مثال کے طور پر فقہ کی مشہور کتاب فتاویٰ قاضی خاں میں ایک جزئیہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھا لے کہ وہ ہوا میں اڑے گا تو ایسی قسم پر کفارہ واجب نہیں۔ کیوں کہ ہوا میں اڑنا ایک محال امر ہے۔ اس بنا پر وہ ایک مہمل قسم (المائدہ ۸۹) قرار پاتی ہے جس پر شریعت میں کوئی کفارہ نہیں۔ آج کوئی بھی مفتی ایسی قسم پر اس طرح کا فتویٰ نہیں دے گا۔ کیوں کہ آج حالات بدل چکے ہیں۔ آج ہوا میں اڑنا امر محال نہیں رہا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ مدون فقہ، اپنے قیمتی دوامی اجزاء کے ساتھ، اس قسم کے زمانی اجزاء بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page