Urdu book · حکمتِ اسلام

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس عنوان کے تحت مسڑ خشونت سنگھ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے: انڈین جرنلسٹ کے مذکورہ الفاظ تقریبا لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں پر صادق آتے ہیں۔ بعد کے زمانہ میں بننے والا یہ مزاج واحد سبب تھا جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر دعوت کا نشانہ سرے سے مفقود ہو گیا۔ مسلم اور یینڈ تھنکنگ مسلمانوں کو مسلم فرینڈلی بناتی ہے۔ جب کہ انسان اور یینڈ تھنکنگ مسلمانوں کو انسان فرینڈلی بنانے والی ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ مسلمان دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور اس کو دعوہ ورک کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔ فقہ، احکام وشریعت کا بیان ہے۔ فقہ کے موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔ مگر ان کتابوں میں دعوت اور تبلیغ کا باب سرے سے موجود نہیں۔ اسی طرح الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی، محمد اقبال اور دوسرے تمام مسلم مصنفین کی کتابیں دعوت کے تصور سے خالی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ فقہی تصور کے مطابق، مسلمانوں کے لیے غیر مسلم عملاً جہاد کا موضوع بن گئے، وہ اُن کے لیے سرے سے دعوت کا موضوع نہ بن سکے۔ اس غیر فطری طرز فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم امت ایک طرف فکری جمود کا شکار ہو گئی اور دوسری طرف وہ دوسری قوموں کے لیے صرف ایک حریف گردہ بن کر رہ گئی۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ختم ہو گیا۔ اس کے بجائے دونوں کے درمیان حریف اور رقیب کا تعلق قائم ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page