Urdu book · حکمتِ اسلام

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

کہنا ہے کہ آپ کا یہ قیام ایک اضطراری قیام تھا۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ ملائکہ کے احترام میں کھڑے ہو گئے جو جنازہ کے ساتھ چل رہے تھے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ ملک الموت کو یاد کر کے کھڑے ہو گئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنازہ کے ساتھ بخور کی بو کی وجہ سے آپ بطور کراہت کھڑے ہو گئے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ اس لیے کھڑے ہو گئے کہ جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے نہ گزرے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ وقتی بیان جواز کے لیے کھڑے ہوئے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابتداء میں آپ نے قیام فرمایا تھا مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اب وہ مسلمانوں سے مطلوب نہیں، وغیرہ۔ (ابن حجر العسقلانی، فتح الباری، جلد ۳، صفحہ ۲۱۴ - ۲۱۶) یہ تشریحات بلاشبہ نادرست ہیں۔ مگر مخصوص منقل سٹ کی بنا پر شارحین کو اس کا احساس نہیں ہوا کہ وہ سنت رسول کی ایسی تشریح کر رہے ہیں جو نعوذ باللہ سنت کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔ یہ سلسلہ آج تک بدستور جاری ہے۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے بعد مسلمانوں کے درمیان بے شمار نئی سرگرمیاں جاری ہوئیں۔ کتابوں اور جرائد کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعہ مسلمانوں نے ان گنت سرگرمیاں جاری کیں۔ مگر یہ تمام سرگرمیاں براہ راست یا بالواسطہ طور پر سابق روش کا امتداد (continuation) تھیں ۔ ان سرگرمیوں سے مسلمانوں کے اپنے قومی ذہن کو تو غذا ملی مگر غیر مسلموں کے لیے ان میں کوئی مثبت مواد موجود نہ تھا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں میں ایک تازہ مثال نقل کروں گا۔ حال میں ایک مسلم ملک میں ایک قرآن ٹی وی قائم ہوا ہے جس کو عام طور پر کیوٹی وی (QTV) کہا جاتا ہے۔ یہ کیوٹی وی یا قرآن ٹی وی مسلمانوں کے درمیان بہت مقبول ہوا ہے۔ یہ ٹی وی اگرچہ قرآن کے نام پر قائم کیا گیا ہے مگر حقیقتاً وہ صرف مسلم کمیونٹی کی نفسیات کو غذا پہنچانے والا ہے، وہ غیر مسلم ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کا کمیونٹی ٹی وی ہے نہ کہ قرآن ٹی وی۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ہندستان ٹائمر (۴ دسمبر ۲۰۰۲) میں انڈیا کے معروف صحافی مسٹر خشونت سنگھ کا تبصرہ اس موضوع پر چھپا ہے جس کا عنوان ہے: Spreading Islamophobia

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page