دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ان کا معاملہ بھی دوسری قوموں کے مقابلہ میں ناصح اور منسوح یا داعی اور مدعو کا ہے۔ یہ نسبت مسلمانوں کے اخلاقی کردار کی تشکیل کرتی ہے۔ داعیانہ نفسیات کا تقاضا ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر حسن کردار کی پابندی کریں۔ حتیٰ کہ وہ مدعو اقوام کی ایذاؤں پر صبر کریں (ابراہیم ۱۲) تاکہ دونوں کے درمیان دعوت کا ماحول باقی رہے۔ یہ داعیانہ کردار بلا شرط مطلوب ہے۔ اس یکطرفہ کردار کا تعلق جس طرح عوام سے ہے اسی طرح اس کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں، پارٹیوں کے لیڈروں، میڈیا کے افراد اور دوسرے تمام سماجی طبقوں سے بھی ہے۔ مگر طبقہ کی مذکورہ طبقاتی تقسیم نے اس تعلق کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور نفرت کے جذبات بھر گئے ۔ جب کہ مدعو ہونے کی حیثیت سے اُن کے ساتھ شکایت اور نفرت کا تعلق رکھنا اُن کے لیے جائز ہی نہ تھا۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس پورے معاملہ کا از سر نو جائزہ (re-examine) لیا جائے۔ از سر نو جائزہ سے کم تر کوئی چیز اس مسئلہ کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ بلا شبہ ایک بے حد مشکل مسئلہ ہے۔ جب مسلم کمیونٹی کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہو جائے تو اس کے ساتھ بہت سے کمرشیل انٹرسٹ جُڑ جاتے ہیں۔ اب ایک وسیع مسلم مارکیٹ وجود میں آجاتا ہے جس طرح یورپین مارکیٹ اور ایشین مارکیٹ جیسے مارکیٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس مرحلہ میں پہنچ کر وہ مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے جاسکیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں یہود کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : لا تشتروا بآیاتی ثمناً قليلاً (البقرہ ۴۱)۔ موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا اسی قسم کا ایک وسیع مارکیٹ بن چکی ہے۔ تسبیح اور مصلیٰ سے لے کر لٹریچر اور اسٹیج سب اس میں قیمتی سامان فروخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ بھی مسلمانوں کے قومی جذبات کو فیڈ کریں وہ ان کے اندر اپنا عظیم بزنس ایمپائر کھڑا کر سکتے ہیں۔ طویل مدت کے اندر بنے ہوئے اس ذہن کی تصحیح دراصل تجدید (revival) کا کام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader