دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ: من أحيا سنة اميتت بعدی فلہ اجر مأة شہید (جس نے میرے بعد میری کسی مردہ سنت کو زندہ کیا تو اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ سو بار لڑ کر شہید ہونا جتنا مشکل کام ہے اتنا ہی مشکل کام یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک ایسی سنت رسول کو دوبارہ زندہ کیا جائے جو صدیوں کے عمل سے گم ہوگئی ہو۔ اس کے لیے نہایت وسیع علم، دور رس منصوبہ بندی، گہری معرفت، حکیمانہ تدبیر، دانش مندی اور صبر کی وافر مقدار ضروری ہے ۔ ان شرطوں کو پورا کئے بغیر اس قسم کا تجدیدی کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کام وہ ہے جس کو تجدید دین کہا جاتا ہے۔ تجدید کے اس کام کو موثر طور پر انجام دینا لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔ یہ کنڈیشینڈ ذہنوں کی ڈی کنڈیشنگ ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو تاریخ کو ری پراسس کرنے کا طالب ہے۔ یہ ہزار سالہ تاریخ کو حذف کر کے اسلام کے دور اول کی طرف لوٹنا ہے اور اسلام کا مطالعہ دوبارہ اس فریم ورک میں کرنا ہے جو اسلام کے دور اول میں تشکیل پایا تھا۔ امت کی نشأۃ ثانیہ کے لیے یہ کام بلا شبہ انتہائی حد تک اہم ہے۔ اس صورت حال نے امت کی اصلاح فکر کے کام کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ جو لوگ اصلاح فکر کے اس مشن کو لے کر اٹھیں ان کو غیر مقبولیت کی قربانی دے کر یہ کام کرنا ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء ( صحیح مسلم، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث ۱۵۹) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور وہ دوبارہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ شروع کے وقت تھا۔ تو مبارک ہیں وہ لوگ جو اس طرح اجنبی ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader