مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
کہنا درست ہوگا کہ اس معاملہ میں نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ میں خود شریعت کے اس متفقہ حکم کو منطبق کرنا چاہیے: الضرورات تبیح المحظورات (ضرورت نا جائز کو جائز کر دیتی ہے)۔ اور یہ کہ تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں اس مسئلہ کو لے کر بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کو بدنام کیا گیا ہے۔ میڈیا میں عام طور پر یہ تصور دیا گیا ہے کہ اسلام جبراور تشدد کا مذہب ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کا عمل رک گیا۔ ظاہر ہے کہ جس مذہب کو لوگ منفی نظر سے دیکھنے لگیں ،اُس کا مطالعہ وہ ہمدردی کے ساتھ نہیں کریں گے اور نہ اُس کو قبول کرنے کا جذبہ اُن کے دل میں پیدا ہوگا۔ ایسی حالت میں اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس پورے معاملہ پر از سر نو غور کیا جائے اور پھر یا تو اس روایتی مسلک کو اسلام میں اضافہ قرار دیتے ہوئے اس کو رد کر دیا جائے یا پھر اُس کا اجتہادی جائزہ لے کر یہ اعلان کیا جائے کہ جدید حالات کا تقاضا ہے کہ اس فقہی مسلک کو بدلا جائے اور مرتدین کے مسئلہ کو پر امن نصیحت کا موضوع بنایا جائے، نہ کہ قتل کا موضوع۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader