Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 347

By Maulana Wahiduddin Khan

نوعیت کا ایک جُرم ہے اور اس کی سزا بھی صرف آخرت میں خدا کے حکم کے مطابق دی جائے گی۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ اسلامی شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ یعنی جو شخص مسلم سماج کا ممبر ہو اور اعلان کے ساتھ اسلام اختیار کر چکا ہو، اگر وہ اس کے بعد مرتد ہو جائے اور ترک اسلام کا اعلان کرے تو اُس کو قتل کر دیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ فقہاء کی اس رائے کی شرعی بنیاد کیا ہے ۔ یہ بنیاد صرف ایک خبر واحد ہے۔ یعنی من بدل دینه فاقتلوہ ۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نوعیت کا کوئی حکم قرآن میں موجود نہیں۔ کسی جُرم پر قتل کا حکم ایک آخری اور انتہائی سزا ہے۔ اس نوعیت کی سزا کا ذکر قرآن میں ضرور ہونا چاہیے ۔ اس کے بجائے قرآن کی آیتوں کو دیکھیے تو اس میں ارتداد کے بعد قتل کا حکم نہیں ہے بلکہ طبعی موت مرنے کا ذکر ہے (ومن يرتد منكم عن دینه فيمت و هو كافر)۔ قرآن اور حدیث کے درمیان اس واضح اختلاف کی صورت میں اصولی طور پر یہ کیا جانا چاہیے کہ قرآن کی روشنی میں حدیث کی تاویل کی جائے ، نہ کہ حدیث کی روشنی میں قرآن کی تاویل کی جائے۔ ایک خبر واحد کی بنیاد پر قرآن کی تاویل کرنے کے بجائے زیادہ محفوظ موقف یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو اصل بنیاد بنا کر اُس کی روشنی میں حدیث کا ایسا مفہوم متعین کیا جائے جو قرآن سے ٹکرانے والا نہ ہو۔ محفوظ تاویل یہی ہو سکتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن میں اعتقادی ارتداد کا ذکر ہے اور حدیث میں سیاسی ارتداد (اسٹیٹ سے بغاوت) کا۔ یہی تاویل زیادہ قرینِ صواب ہے۔ آخری بات جیسا کہ اوپر کی بحث سے واضح ہوا، قتل مرتد کا حکم قرآن میں موجود نہیں ہے۔ حدیث میں یہ حکم ایک خبر واحد کے طور پر ملتا ہے۔ فقہاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مرتد کے قتل پر اُن کا اجماع ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ جمہور فقہاء (فقہاء کی اکثریت) اس رائے کے حق میں ہے، مگر اجماع کا دعویٰ یقینی طور پر درست نہیں۔ تا ہم اگر کچھ لوگوں کے نزدیک مرتد کے قتل کا حکم اسلامی شریعت کا ایک حکم ہے، تب بھی یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page