کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کفر اور کافر کا مسئلہ بیسویں صدی میں کمیونسٹ نظریہ بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلا۔ اس کے تحت انسانی سماج کو دو طبقوں میں بانٹ دیا گیا۔ ایک محنت کش طبقہ (working class) اور دوسرا بورژوا طبقہ۔ بورژوا (bourgeois) ایک فرانسیسی لفظ ہے۔ یہ لفظ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے متوسط طبقہ کے لیے بولا جاتا تھا۔ مگر مارکسی فلسفہ کے زیر اثر وہ ایک تحقیری (derogatory) لفظ بن گیا۔ اس نظریہ کے تحت سماج دو طبقوں میں بٹ گیا۔ ایک محنت کش طبقہ جو ہر اعتبار سے معصوم طبقہ کی حیثیت رکھتا تھا اور دوسرا ابورژوا طبقہ جو مارکسی تصور کے مطابق ، سرمایہ دار طبقہ (capitalist class) کے ہم معنی تھا اور جو مارکس کے مطابق ، ہر قسم کی سماجی اور اقتصادی برائی کی جڑ تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ کافر کے لفظ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ کافر کا لفظ ابتدائی طور پر صرف ایک سادہ مفہوم رکھتا تھا۔ لغوی اعتبار سے کافر کے معنی ہیں ، انکار کرنے والا۔ مگر بعد کے زمانہ میں کافر کا لفظ ایک تحقیری لفظ (derogatory word) بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں نظری اعتبار سے یہ غالباً مسلم اور غیر مسلم کے درمیان سب سے بڑا نزاعی مسئلہ ہے جس سے موجودہ زمانہ کے مسلمان دوچار ہیں۔ ایک مثال سے اس معاملہ کی وضاحت ہوگی۔ اقبال کا خاندان پہلے ایک برہمن خاندان تھا۔ بعد کو وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے: مرا بنگر که در هندوستان دیگر نمی بینی برہمن زادهٔ دانا ئے رمز روم و تبریز است اس شعر میں برہمن زادہ کا لفظ سننے والوں کو برا نہیں لگتا۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے برہمن زادہ اور کافر زادہ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ لیکن اگر اقبال کے اس شعر کو بدل کر اس طرح کہا جائے: که کافر زادهٔ دانا ئے رمز روم و تبریز است

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader