کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کئے جائیں جن میں کوئی تحقیقی مفہوم (derogatory sense) نہ ہو بلکہ وہ سادہ طور پر صرف اظہار واقعہ کے ہم معنی ہو۔ بدقسمتی سے اس معاملہ میں مسلم علماء، احتیاط کا پہلو اختیار نہ کر سکے۔ وہ اپنی کتابوں میں اور قرآن کے ترجموں میں کافر کے لیے بے تکلف انفڈل کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الماجد دریا بادی نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں قل یا ایھا الکافرون کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے: Say thou: infidels (4:535) دراصل مسلم علماء اور رہنماؤں کی اسی قسم کی غیر احتیاطی باتیں ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سخت تناؤ پیدا ہو گیا ہے جس کا نتیجہ مختلف نا خوشگوار صورتوں میں سامنے آتا رہتا ہے۔ یہی غلطی قرآن کے اردو اور فارسی مترجمین نے بھی کی ہے۔ قرآن کے بہت سے ترجمے شائع ہوئے ہیں۔ مگر غالباً صرف ایک مترجم (شاہ عبد القادر) کو چھوڑ کر تمام مترجمین نے اس معاملہ میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کیا ہے۔ قل یا ایھا الکافرون کے کچھ ترجمے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: (شاہ ولی اللہ) بگواے کافراں (شاہ رفیع الدین) کہہ اے کافرو (اشرف علی تھانوی) آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے (ابوالاعلیٰ مودودی) کہہ دو کہ اے کافرو (امین احسن اصلاحی) کہہ دو، اے کافرو (شاہ عبدالقادر) تو کہہ، اے منکرو اس قرآنی آیت کے تحت اکثر مترجمین نے اسی قسم کے ترجمے کئے ہیں۔ اس آیت میں کافر کا ترجمہ درست نہیں۔ بالفرض وہ خالص لغوی اعتبار سے غلط نہ ہو تب بھی وہ دوسری قوموں کے لیے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader