کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل اعتراض لفظ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ترجمہ سے احتراز کیا جائے۔ پھر یہ صرف ترجمہ کی بات نہیں، اسی ترجمہ کی بنیاد پر ذہن بنتا ہے اور تقریر و تحریر میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ترجمہ پوری ملت کی منفی ذہن سازی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ ترجمہ ہم اور وہ (we and they) کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اور اس قسم کا تقسیمی ذہن دعوتی اعتبار سے درست نہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، غالباً ایک ہی عالم ہیں جنہوں نے قرآن کے ان الفاظ کا درست ترجمہ کیا ہے اور وہ شاہ عبدالقادر دہلوی ہیں۔ شاہ عبدالقادر صاحب کا اردو ترجمہ تمام علماء کے نزدیک نہایت مستند مانا گیا ہے۔ انہوں نے مذکورہ آیت کا ترجمہ منکر و کیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۹ میں قل یا ایھا الکافرون (کہو کہ اے منکرو) کے الفاظ آۓ ہیں ۔ یہ طرزِ خطاب پورے قرآن میں صرف ایک بار اسی ایک سورہ میں استعمال ہوا ہے۔ کافر یا کفار یا کافرون کے الفاظ تو قرآن میں متعدد بار آۓ ہیں۔ مگر ایھا الکافرون جیسے متعین خطاب کی صورت میں اس کا استعمال قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوا ہے۔ مفسرین کی رائے کے مطابق، یہاں الکافرون میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ ایک گروہ خاص کے لیے مشخص طور پر آیا ہے، نہ کہ عمومی طور پر ہر اُس شخص کے لیے جو مسلم گروہ سے باہر ہو۔ ذیل میں کچھ مفسرین کے اقوال درج کیے جاتے ہیں: (قل ياايها الكافرون) المخاطبون كفرة مخصوصون قد علم الله انهم لا يؤمنون (تفسير النسفي) و عني بالكافرين قوماً معينين لا جميع الكافرين (تفسير القرطبی) خطاب لجماعة مخصوصة (تفسير المظهري) قل یا ایھا الکافرون ایک مخصوص خطاب ہے، اِس کو عمومی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی قل یا ایھا الکافرون سے مراد ہمیشہ کے لیے صرف قدیم منکرین قریش رہیں گے جو پیغمبر اسلام کے معاصر تھے اور پیغمبرانہ اتمام حجت کے باوجود، جنہوں نے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کیا۔ زمانہ نبوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader