Urdu book · حکمتِ اسلام

کفر اور کافر کا مسئلہ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آپ نے انہیں اے لوگو (ايها الناس، اتقوا النار ولو بشق تمرة) کے لفظ سے خطاب کیا۔ اسی طرح مدینہ کے باہر ملک کے اطراف میں بہت سے غیر مسلم قبیلے موجود تھے۔ مگر اُن کو بھی کافرانِ عرب یا کافر قبائل کا نام نہیں دیا گیا۔ بلکہ اُن کے معروف نام سے انہیں پکارا گیا۔ مثلاً اہلِ سقیف، اہلِ نجران، اہلِ بحرین، وغیرہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول میں اہلِ اسلام جب عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف مذہب کے ماننے والے لوگ آباد تھے۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا کہ ان غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ انہوں نے ہر ایک کو اُس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بوڈا) کہا، وغیرہ۔ اسی طرح دورِ اول کے یہ مسلمان جب ہندوستان آئے تو یہاں بھی انہوں نے یہی کیا۔ انہوں نے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابوالریحان البیرونی (وفات ۱۰۲۸ء) نے ہندوستان کا سفر کیا۔ اُس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوستان کے بارہ میں ایک عربی کتاب تاریخ الہند لکھی۔ اُس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہندو کہتا ہے، نہ کہ کافرانِ ہند۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ وہاں اُن کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو وہ اُن کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارتے ہیں، وہ اُنہیں کافر یا کفار نہیں کہتے۔ چند تاریخی مثالیں جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایہا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرینِ مکہ کے لیے آئی ہے اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد۔ منکرینِ مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخص انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page