کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا ایھا الکفار۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری: یا ایھا الانسان ما غرك بربک الکریم۔ ہجرت کے بعد صحیفہ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا: لليهود دينهم و للمسلمين دينهم ۔ ایسا نہیں ہوا کہ یہ لکھا جائے کہ للكفار دينهم وللمسلمين دينہم۔ فتح مکہ کے بعد عرب کے مشرک قبائل کے وفد رسول اللہ سے گفت و شنید کے لیے مدینہ آئے۔ مگر یہاں بھی خطاب کا انداز یہی تھا: مثلاً یمن کے لوگ مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا کہ: اتاکم اهل اليمن ۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اتا کم كفار الیمن۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اطرافِ عرب کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کیے تو اُن کا انداز بھی یہی تھا۔ مثلاً آپ نے رومی حکمراں کو جو خط لکھا اُس کا پہلا جملہ یہ تھا: من محمد بن عبد الله الى هرقل عظیم الروم ۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ الی هرقل کافر الروم۔ حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ان الله بعثني كافة للناس فادوا عنی۔ اس میں بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان الله بعثني كافة للكفار۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں صحابہ کی فوج ایران میں داخل ہوئی تو روایات کے مطابق، وہاں ایران کے غیر مسلم حکمراں کو خطاب کرتے ہوئے ایک صحابی نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوۓ کہا: لنخرج العباد من عبادة العباد الى عبادة الله ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہیں کہ لنخرج الكفار من عبادة الكفار الى عبادة الله ۔ اس طرح دورِ اوّل کے مسلمان جب عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیلے تو کسی بھی ملک میں انہوں نے لوگوں کو کافر یا کفار کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہر قوم کو اُسی لفظ سے خطاب کیا جس لفظ کو اُس نے خود اختیار کر رکھا تھا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، مجوس کو مجوس، بُدھ کو بُدھ، وغیرہ۔ کافر کا تحقق اُس وقت ہوتا ہے جب کہ متعلقہ شخص کے اوپر کامل اتمام حجت کیا جا چکا ہو اور اس اتمام حجت کا ماڈل صرف ایک ہے۔ اور وہ پیغمبر اسلام کے دور میں مکہ کی تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد ہے۔ یہ تیرہ سالہ دعوتی عمل، ہمیشہ کے لیے دعوت یا اتمام حجت کے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ اتمام حجت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader