Urdu book · حکمتِ اسلام

کفر اور کافر کا مسئلہ

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے۔ مزید یہ کہ اس بات کا تحقق کہ کسی کے اندر صفت انکار ہے یا نہیں ، قیاس کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ حقیقی تجربہ کی بنیاد پر ہوگا۔ اور وہ تجربہ یہ ہے کہ پیغمبر کی سطح پر کم از کم تیرہ سال تک اعلیٰ ترین معیار کی دعوتی جد و جہد چلائی جائے۔ اس کے بغیر خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی کسی کو کافر کہنا درست نہیں۔ مناظرہ بر صغیر ہند میں برٹش حکومت کے زمانہ میں اہل اسلام کے درمیان ایک مبتدعانہ رواج ظہور میں آیا جس کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کے بجائے مناظرہ بازی شروع ہوئی جس نے دونوں فرقوں کے درمیان غیر معتدل فضا پیدا کرنے کا کام کیا۔ مسلمان مناظر نے ہندو کے خلاف کتاب لکھی اور اُس کو ’کفر توڑ‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد ہندو مناظر نے مسلمانوں کے خلاف کتاب لکھی جو ’کفر توڑ کا بھانڈہ پھوڑ‘ کے نام سے شائع کی گئی۔ اسلام کا طریقہ دعوت ہے جو نصح (خیر خواہی) اور شفقت اور یک طرفہ صبر کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ جب کہ مناظرہ (debate) کا مقصد فریق ثانی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ مناظر کا نشانہ فریق ثانی کو ہرانا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس قسم کی زبان بولتا ہے کہ اُن کے اوپر بلڈوزر چلا دو: Bulldoze them all. اس سے دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو طرح طرح کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دار الدعوہ دار الکفر یا بلاد الکفار کے الفاظ عباسی دور میں استعمال کیے گئے۔ اس سے پہلے یہ اصطلاحیں اہل اسلام کے درمیان رائج نہ تھیں۔ میرے نزدیک یہ اضافہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک اسلامی ملک ہو اُس کو دار الاسلام کہا جائے اور بقیہ تمام ملکوں کو دار الدعوہ کہا جائے۔ دار الاسلام کے سوا ہر ملک دار الدعوہ ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے حق میں بظاہر دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن میں پیغمبرِ اسلام کی نسبت سے ارشاد ہوا ہے: وهذا كتاب انزلنه مبرك

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page