Urdu book · حکمتِ اسلام

کفر اور کافر کا مسئلہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد بھی متعین طور پر کسی کے کافر ہونے کا اعلان خدا کی طرف سے ہوگا ، نہ کہ داعی کی طرف سے۔ قریش کی مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سال پیدائش ۵۷۰ میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔ یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مکہ کی طرف اقدام کیا۔ اُس کا ارادہ تھا کہ وہ کعبہ کو ڈھا دے۔ مگر اللہ کی خصوصی مدد کی بنا پر اُسے کامیابی نہیں ملی۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ میں اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ۶۱۰ء میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو نزولِ قرآن کے اس ابتدائی زمانہ میں قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۶ اتری۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: اس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس۔ تو اُن کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے اُن کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے اُن کو امن دیا۔ (قریش ۱۔ ۴) اس سورہ میں قریش کو صرف قریش کہا گیا، نہ کہ کفار یا کفار قریش۔ پیغمبر اسلام تو توحید کے داعی تھے۔ آپ نے مکہ میں اپنی دعوت شروع کی تو مسلسل تیرہ سال تک اسی انداز میں لوگوں کو پکارتے رہے کہ اے قریش کے لوگو، اے انسانو، اے میری قوم۔ پر امن دعوتی مہم کی اس پوری مدت میں آپ نے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ فریق ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیاد تیاں کی گئیں۔ لیکن اُن کے لیے آپ کی خیر خواہی کا جذبہ ختم نہیں ہوا۔ اُن کی ایذاؤں پر یک طرفہ صبر کرتے ہوئے آپ نے اپنی پر امن دعوتی جدوجهد جاری رکھی۔ آخر کار تیرہ سال بعد قرآن میں سورہ نمبر ۱۰۹ اتری۔ اس میں پہلی بار خدا کی طرف سے ان الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ: قل یا ایھا الكفرون (کہہ دو کہ اے انکار کرنے والو) اس سے معلوم ہوا کہ کافر (منکر) کا لفظ ایک صفت کو بتاتا ہے، نہ کہ کسی قوم کو۔ اگر کافر سے مراد کوئی قوم ہوتی تو قرآن میں آیت کے الفاظ لا یلف قريش کے بجائے لا يلف الكفار ہونا چاہئے تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ کافر کا لفظ صفت انکار کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ قومی تعلق کو بتانے کے لیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page