حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے ذریعہ رفعت ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارہ میں فرمایا: ان الله يرفع بهذا الكتاب اقواماً و يضع به آخرين (صحیح مسلم، کتاب المسافرين، مسند احمد) یعنی خدا اس کتاب ، قرآن کے ذریعہ کچھ لوگوں کو بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو اُس کے ذریعہ پست رکھتا ہے۔ اس حدیث میں جس رفعت اور پستی کا ذکر ہے اُس کا کوئی تعلق سیاست اور حکومت سے نہیں ہے۔ یہ تمام تر ایک غیر سیاسی واقعہ ہے۔ یہ رفعت ہر حال میں کسی کو مل سکتی ہے، خواہ وہ ایک مقام پر ہو یا دوسرے مقام پر۔ خواہ وہ اقتدار کی حالت میں ہو یا بے اقتدار کی حالت میں۔ خواہ وہ غربت کی حالت میں ہو یا دولت کی حالت میں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جن حقیقتوں کو کھولا گیا ہے اُس کو جو آدمی دریافت کرے وہ انسانی بلندی کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ اُس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل جاری ہوگا۔ اُس کے اندر فکری انقلاب آجاۓ گا۔ اُس کے اندر اعلیٰ ذوق کی صفت پیدا ہو جائے گی۔ وہ اخلاق کے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے گا۔ اُس کی نفسیات مکمل طور پر مثبت نفسیات بن جائے گی۔ اُس کو کردار کی بلندی حاصل ہوگی۔ وہ معاملات میں حسن تدبیر کو اختیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ وہ دشمنی کے باجود عدل سے نہیں ہٹے گا۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوگا۔ اُس کے اندر ربانی شخصیت پرورش پائے گی۔ وہ خدا کے جلال وکمال میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ اس کے برعکس حالت اُس انسان کی ہوگی جو قرآن سے فیض حاصل نہ کرسکے۔ وہ فکری اور روحانی اعتبار سے ایک پست انسان بن جائے گا۔ وہ ہمیشہ ذہنی انتشار میں مبتلا رہے گا۔ بے یقینی اُس کا سرمایہ بن جائے گی۔ خدا کی نشانیوں کے درمیان وہ خدا کی نشانیوں کو دیکھنے سے محروم رہے گا۔ ہر واقعہ اُس کو منفی سبق دے گا۔ ہر تجربہ اُس کی پستی میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ ہدایت کی روشنی سے فیض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader