حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل کرنا اُس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔ وہ غیر خدائی سوچ میں جئے گا اور اُسی میں مر جائے گا۔ مذکورہ حدیث میں جس رفعت اور پستی کا ذکر ہے اُس کا تعلق اصلاً افراد سے ہے۔ اِس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کسی انسان کو سپر انسان بناتا ہے۔ وہ انسان کو سیرت و کردار کی بلندی عطا کرتا ہے۔ مگر جو شخص قرآن کو پڑھ کر اُس سے نصیحت نہ لے اُس کا معاملہ بالکل برعکس ہو جائے گا۔ سچائی کو جاننے کے بعد اُس کا انکار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس قسم کا انکار آدمی کو ذہنی پستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اِس بدترین کمزوری میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقت کو جانے مگر وہ حقیقت کا اعتراف نہ کر سکے۔ وہ بے اعترافی کی بُرائی میں مبتلا ہو جائے اور کسی کی ذہنی ترقی میں بے اعترافی ایک قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ جب کسی گروہ میں قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کی ہو جائے جن کو قرآن نے پستی سے اُٹھا کر بلندی کے درجہ تک پہنچایا ہو تو ایسا گروہ عام گروہ کی مانند نہیں رہتا۔ ایسے گروہ میں وہی صفات اجتماعی سطح پر ظاہر ہونے لگتی ہیں جو اس کے کچھ افراد کے اندر انفرادی سطح پر پیدا ہوئی ہیں۔ کسی گروہ میں ایسے افراد کی تعداد اگر اتنی زیادہ ہو جائے کہ وہ گروہ کے اندر غالب حیثیت حاصل کر لیں، یہی افراد اُس گروہ کی فکری اور اخلاقی پہچان بن جائیں تو اِس کے بعد یہ معاملہ انفرادی حد کے اندر نہیں رُکتا۔ اُس کا ظہور اجتماعی سطح پر بھی لازمی طور پر ہونے لگتا ہے۔ یہاں پہنچ کر ایسا ہوتا ہے کہ جو رفعت افراد کو حاصل ہوئی تھی وہی پورے گروہ کا مقدر بن جاتی ہے۔ اِس طرح اس کے برعکس صورت بھی پیش آتی ہے۔ یعنی جب کسی سماج میں ایسے افراد غالب آ جائیں جو حق سے محرومی کے نتیجہ میں پستی کے درجہ تک پہنچ گئے ہوں تو اُس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ گروہ بھی اُسی طرح پستی میں چلا جاتا ہے جس طرح اِس کے افراد فکر و عمل کی پستی میں پہنچ گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader