Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں ہر آدمی قانونِ خداوندی، بالفاظِ دیگر قانونِ فطرت کے تابع ہے۔ وہ اپنے آغاز میں بھی اسی قانون کے ماتحت ہے اور اپنے آخر میں بھی اسی قانون کے ماتحت۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت جب بھی کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ معتدل انداز میں اُس کا سامنا کرے ۔ وہ اُس کو اپنے حق میں خیر سمجھ کر اُس کو قبول کرے ۔ اس آیت میں مصیبتوں کا مقصد ابتلاء (ولنبلو نکم) بتایا گیا ہے۔ ابتلاء کے معنی امتحان یا آزمائش ہیں۔ انسانی زندگی میں اس قسم کے امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اُس کو حوادث کے درمیان تربیت دے کر زیادہ بہتر انسان بنایا جائے۔ حوادث کسی آدمی کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے ۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کے اندر پختگی آتی ہے۔ حوادث آدمی کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہیں۔ حوادث آدمی کے لیے زندگی کے سفر میں مہمیز کا کام کرتے ہیں ۔ حوادث کے بغیر آدمی نامکمل ہے۔ یہ حوادث ہی ہیں جو آدمی کی شخصیت کو مکمل شخصیت بناتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حوادث کا صحیح مقابلہ یہ نہیں ہے کہ اپنے اندر ذہنی عمل کو سپریس کر دیا جائے یا اُس کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ بہت سے لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ سگریٹ یا شراب کے ذریعہ اُس کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مخصوص ورزشوں کے ذریعہ اپنے اندر ذہنی عمل کو معطل کر دینا چاہتے ہیں ۔ وہ حقیقی زندگی سے فرار (escape) کا کوئی طریقہ تلاش کرتے ہیں ۔ وہ میڈیٹیشن (Meditation) کے ذریعہ اپنے ذہن کو ایک ایسی حالت میں لے جاتے ہیں جس کو ذہنی تخدیر (Intellectual anaesthesia) کہا جا سکتا ہے ۔ اس قسم کے تمام طریقے فطرت کے خلاف ہیں اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی انسان کے لیے مفید نہیں ہو سکتی۔ اکثریت پر اقلیت کا غلبہ قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ایک قدیم واقعہ کا ذکر ہے۔ اس کے تحت فطرت کے ایک ابدی قانون کو بتایا گیا ہے، ایک ایسا قانون جو کبھی بدلنے والا نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت کا ایک حصہ یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page