حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
سٹریس مینج منٹ Stress Management زندگی میں بار بار مسائل اور مصائب آتے ہیں۔ ایسا ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس سے کس طرح کامیابی کے ساتھ نپٹا جائے ۔ اس کا جواب قرآن کی سورہ نمبر ۲ کی ایک آیت میں ملتا ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے: "اور ہم ضرورتم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں"۔(البقرہ ۱۵۵-۱۵۶) مسائل اور مصائب کے وقت کوئی شخص ذہنی تناؤ کا شکار کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ اُس کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جس کو نہ ہونا چاہئے تھا۔ آدمی اگر یہ سمجھ لے کہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ خود فطرت کے قانون کے تحت پیش آیا ہے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مثلاً اگر آندھی اور بارش آئے تو وہ بھی انسان کے لیے مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ مگر آندھی اور بارش کے وقت آدمی ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ اُس کو فطرت کے قانون کے تحت ہونے والا ایک واقعہ سمجھتا ہے اور معتدل انداز میں اُس کا سامنا کرتا ہے۔ یہی معاملہ زندگی کے مسائل اور مصائب کا بھی ہے۔ یہ چیزیں خالق کے تخلیقی منصوبہ کے تحت پیش آتی ہیں۔ وہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی اگر پیش آنے والے مصائب کو اس حیثیت سے لے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مصائب یا مسائل کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک صبر کا طریقہ اور دوسرا ،بے صبری کا طریقہ۔ بے صبری کا طریقہ، دوسرے لفظوں میں ، منفی ردعمل (negative response) کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس صبر کا طریقہ مثبت ردعمل (positive response) کا طریقہ۔ ذہنی تناؤ ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ آدمی کو ذہنی تناؤ کا شکار ہونے سے بچالیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader