Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل خاموشی کے ساتھ اور مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ ایک گروہ پورے معنوں میں تخلیقی گروہ (creative group) بن جاتا ہے، اور دوسرا گروہ پورے معنوں میں غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت ایک فطری حقیقت کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فئہ قلیلة (غیر محفوظ گروہ) مسلسل اپنی اہلیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تعداد کی قلت کے باوجود اپنی برتر صفات کی بنا پر عملاً غالب حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس فئہ کثیرة (محفوظ گروہ) مسلسل طور پر انحطاط کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ وہ باہمی اتحاد، گہری سوچ اور دور رس عمل جیسی صلاحیتوں سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ آخر کار اپنی ہی دنیا میں عملاً مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے۔ معاملہ کی کتابت قرآن کے مطابق ، درست معاملہ کی بے حد اہمیت ہے۔ درست معاملہ کسی انسان کے حق پرست ہونے کی پہچان ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اے ایمان والو، جب تم کسی مقرر مدت کے لیے اُدھار کا لین دین کرو تو اُس کو لکھ لیا کرو۔ اور اُس کو لکھے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ۔ اور لکھنے والا لکھنے سے انکار : کرے، جیسا اللہ نے اُس کو سکھایا ، اِس طرح اُس کو چاہیے کہ لکھ دے۔ اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور وہ ڈرے اللہ سے جو اُس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ۔ اور اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ اُس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے ۔ اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تا کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اُس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کے تعیین کے ساتھ اُس کو لکھنے میں کاہلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page