حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کرو۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں کہ تم اُس کو نہ لکھو۔ مگر جب یہ سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لیے گناہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (البقرہ ۲۸۲) یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ لمبی آیت ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہمی معاملہ میں کتابت کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ معاملات میں ہمیشہ شکایت اور اختلاف کا امکان رہتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ معاملہ کے وقت اُس کو باقاعدہ صورت میں لکھ لیا جائے۔ کتابت معاملہ کا ایک ایسا مستند ریکارڈ ہے جو کسی امکانی اختلاف کو طے کرنے کے لیے ایک یقینی ذریعہ ہے۔ معاملہ کو باقاعدہ تحریر میں لانا سماج کے باہمی اختلاف کو ختم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے ذہن کی بناوٹ میں فرق ہے۔ اس فرق کی بنا پر ایسا ہے کہ مرد کے اندر کسی ایک چیز پر فوکس کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے۔ جب کہ عورت کا فوکس پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ امکان ہے کہ ایک عورت کسی معاملہ کو پوری طرح اپنی ذہنی گرفت میں نہ لے سکے۔ اس فرق کے پیش نظر یہ احتیاطی تدبیر بتائی گئی کہ گواہ اگر عورت ہے تو دو عورتوں کو گواہ بنا لو تا کہ ایک عورت دوسری عورت کی تلافی کر سکے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ: واتقوا الله و يعلمکم الله (اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو علم دیتا ہے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم کا تعلق تقویٰ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اور صحت فکر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ آدمی کے پاس اگر علم یا معاملات کا ذخیرہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست فکر یا صحیح سوچ کا بھی حامل ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ علومِ قطعیہ (exact sciences) میں ریاضیات اور تجربات کے ذریعہ حتمیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader