Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

سماج کو تیار کریں کہ وہ ایسے افراد کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت نہ کرے ۔ وہ نصیحت اور تذکیر کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے برائی میں ملوث ہونے والے افراد کی اصلاح کی مہم چلائیں۔ وہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ برے افراد کے لیے سماج میں باعزت طور پر رہنا ناممکن ہو جائے۔ یہی اجتماعی احتساب کا نظام ہے۔ یہی نظام کسی سماج کی فلاح کا ضامن ہے۔ جس سماج میں ایسا ہو کہ سماج کے سر بر آوردہ لوگ برے افراد کی مذمت نہ کریں ، وہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کے لیے کھڑے نہ ہوں ، ایسا سماج یقینی طور پر فلاح سے محروم رہے گا۔ آیت میں فرمایا کہ : واولئک ھم المفلحون (اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں)۔ یہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ یہ دراصل فطرت کا ایک قانون ہے جس کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی فلاح کا بہت کم تعلق حکومت اور قانون سے ہے۔ اس کا زیادہ تعلق اُن تعمیری سرگرمیوں سے ہے جو غیر حکومتی سطح پر انجام دی جائیں۔ کسی سماج میں یہ ہونا چاہئے کہ اُس کے افراد دوسروں کے معاملے میں غیر جانبدار بن کر نہ رہیں۔ وہ اپنی ذاتی فلاح کے ساتھ دوسروں کی فلاح بھی دل سے چاہتے ہوں۔ جس سماج کے افراد میں یہ اسپرٹ ہو وہاں یہ ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہیں گے۔ وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ وہ کسی دوسرے کو تکلیف میں دیکھیں گے تو وہ اُس پر تڑپ اُٹھیں گے اور اجتماعی زور کے ساتھ اُس کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ یہ چاہیں گے کہ سماج میں برائی دبے اور اچھائی پھیلے۔ اس قسم کا اصلاحی مزاج ہی کسی سماج کی تعمیر و ترقی کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل اجتماعی ضمیر کی بات کہی گئی ہے، حکومت و اقتدار سے اُس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ سازش بے اثر قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا سب سے زیادہ موثر توڑ کیا ہے۔ وہ ہے۔ صبر اور تقویٰ۔ صبر اور تقویٰ بظاہر کوئی مادی طاقت نہیں ، مگر صبر و تقویٰ کے ذریعہ سازش کا کامیاب دفاع کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page