Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

”اگر تم صبر کرو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں خدا اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔“ (آل عمران ۱۲۰) قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش کی موجودگی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سازش کے فطری توڑ کے لیے صبر اور تقویٰ موجود نہ ہو۔ موجودہ دنیا کو چیلنج اور مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق سے آگے بڑھنے کے لیے سازش کرتا ہے لیکن اگر زیر سازش فریق کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو تو وہ اس کے لیے حفاظت کی گارنٹی بن جائے گا۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ جو کارروائی کی جائے وہ رد عمل کے تحت نہ کی جائے بلکہ مثبت غور و فکر کے ذریعہ ٹھنڈے ذہن کے تحت کی جائے۔ تقویٰ یعنی گاڈ کا نشش نس اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی کسی بھی حال میں جسٹس سے نہ ہٹے، وہ جو کارروائی کرے وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر کرے۔ وہ خدا کے احکام کا پابند ہو، نہ کہ خود اپنی خواہشات و ترغیبات کا پابند۔ سازش یا تشدد کے مقابلہ میں اگر جوابی سازش اور تشدد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے فریقین کے درمیان ضد بڑھتی ہے۔ نفرت اور انتقام کی نفسیات جاگتی ہے۔ ایک دوسرے کے درمیان وہ منفی جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو عام طور پر سبق سکھانا کہتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں اصل مسئلہ مزید بڑھتا ہے۔ انتقام در انتقام کے نتیجہ میں وہ ایک ایسی برائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ اس کے برعکس صبر و تقویٰ کا طریقہ گویا منفی حالات کا جواب مثبت رد عمل سے دینا ہے۔ یہ تخریب کے جواب میں تعمیر کے اصول پر مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ وہ دو طرفہ تشدد کو یک طرفہ بنا دینا ہے۔ جب بھی کوئی فرد یا گروہ اس طرح صبر و تقویٰ کا طریقہ اختیار کرے تو وہ دو بات کو یقینی بنا لیتا ہے۔ فریق ثانی کے حق میں ناکامی اور اپنے حق میں کامیابی۔ حالات یکساں نہیں رہتے قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ایک صورت حال پر تبصرہ ہے۔ پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو بدر کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page