حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ دنیا کے نظام کو اس طرح بدل جانا چاہیے کہ یہاں صرف میرے لیے موافق موسم ہو، اور جو موسم میرے خلاف ہو وہ کبھی زمین پر نہ آئے۔ عالمی نظام کے بارہ میں اس قسم کی شکایت و احتجاج جتنی بے معنی ہے اتنا ہی بے معنی وہ شکایت و احتجاج بھی ہے جو سیاسی تبدیلی یا قوموں کے عروج و زوال پر کی جائے۔ کائنات معرفت کا خزانہ ہے قرآن میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ تدبّر اور تفکر ہے۔ قرآن کے مطابق، ہماری گردو پیش کی دنیا حقائق کا خزانہ ہے۔ اُس میں غور و فکر کے ذریعہ آدمی زندگی کی حقیقتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی کچھ آیتیں یہ ہیں: ” آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا‘‘۔ (آل عمران ۱۹۱) قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے اُس کو سائنس آف ٹروٹھ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کے سائنسی مطالعہ کا مقصد صرف ٹیکنکل ترقی نہیں ہے اس سے بڑھ کر اُس کا ایک اور مقصد ہے، اور وہ ہے خالق کی تخلیقات میں خالق کو دریافت کرنا۔ تخلیقات کا گہرا مطالعہ کر کے زندگی کے راز کو معلوم کرنا۔ مادی کائنات کی تحقیق کر کے یہ جاننا کہ اُس کے نقشہ کے مطابق، انسانی ترقی کا قانون کیا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی خلل نہیں (الملک ۳) اس طرح کائنات کا مطالعہ انسان کے لیے اس میں مددگار ہے کہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل بھی کامیابی کے ساتھ انجام دے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اپنی زندگی میں جو نقشہ مطلوب ہے وہ وہی ہے جو بقیہ کائنات میں بالفعل قائم ہو ۔ چنانچہ آدمی جب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اُس میں ایک طرف خالق کی تجلیات کو پالیتا ہے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader