Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک معاملہ میں ضرورت سے زیادہ تو جہ دینا ، دوسرے معاملہ میں کمی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسی طرح تفریح کا مزاج آدمی کو یہ نقصان پہنچاتا ہے کہ اُس کے پاس دوسرے زیادہ ضروری کاموں کے لیے وقت ہی نہ رہے۔ اسی طرح لذیذ کھانوں کا شوق آدمی کے لیے اس نقصان کا سبب بنتا ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے ضروری پہلوؤں کے بارہ میں غافل ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹائم مینجمنٹ اپنے اوقات کی درست تقسیم کا دوسرا نام ہے۔ جب آدمی کے اندر صحیح معنوں میں ٹائم مینجمنٹ کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بہت سی غیر ضروری یا غیر اہم چیزوں سے بچ جائے گا۔ مثلاً فضول خرچی، مصنوعی تکلفات، غیر حقیقی مشاغل، وقتی تفریحات، وغیرہ۔ زندگی میں ساری کی بے حد اہمیت ہے۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ تاہم سادگی کے اصول پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ٹائم مینجمنٹ کی اہمیت کو سمجھ لے، وہ اپنے اوقات کے بارے میں پوری طرح حساس ہو جائے ۔ ایسا آدمی جب بھی سادگی کے خلاف کوئی کام کرے گا تو اُس کی یہ حساسیت اُس کو فوراً روک دے گی۔ وہ محسوس کرے گا کہ وہ سادگی کے خلاف طریقہ استعمال کر کے اپنے آپ کو اس ہلاکت میں ڈال رہا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے نہ پیسہ رہے اور نہ وقت۔ صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں شوہر اور بیوی کے درمیان نزاع کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس مسلئہ کا حل کس طرح تلاش کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے: اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رُخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں صُلح کر لیں اور صُلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اُس سے باخبر ہے۔ (الننساء (۱۲۸) قرآن کی اس آیت میں صُلح کو بہتر بتایا گیا ہے۔ یہ بات بظاہر خاندانی نزاع کے بارہ میں ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page